انوارالعلوم (جلد 8) — Page 640
۶۴۰ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم ساکنانِ محلّہ دارالرحمت کے سپاسنامہ کا جواب (فرموده۷ ۲- نومبر ۱۹۲۴ء) میں اس ایڈریس کے جواب میں جو محلّہ داران ساکنان دارالرحمت کی طرف سے پڑھا گیا ہے اپنی اور اپنے ہمرا ہیان سفر کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کر تا ہوں۔اور جزاکم الله کہتے ہوئے اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے ان محلوں کی آبادی سے بہت محبت ہے۔کیونکہ ان علاقوں میں آبادی کے لئے زمین کی تقسیم کا سوال سب سے پہلے میرے ہی دل میں آیا تھا جب میں اس نے یہ ارادہ کیا اس وقت بہت سے دوست جن سے میں نے اس کا ذکر کیا خیال کرتے تھے کہ یہ کام نہایت مشکل ہے۔لیکن اس وقت کے حالات کے ماتحت میرے دل میں دو خیال تھے۔ایک یہ کہ قرآن کریم کا پہلا مترجم پارہ صرف ہمارے ہی خاندان کے خرچ سے چھپے جس کی آمد سے دوسرا پارہ شائع ہو اور اسی طرح سارا قرآن چھپ جائے اس کے لئے میں نے چاہا کہ اپنی زمین فروخت کر کے روپیہ بہم پہنچاؤں۔دو سرا خیال یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی وسعتِ قادیان کے متعلق پوری نہیں ہو سکتی جب تک قادیان کی پرانی آبادی کی چار دیواری سے باہرنہ نکلا جائے۔چونکہ عام لوگ نمونہ کو دیکھ کر کام کیا کرتے ہیں اس لئے اگر با ہر مکان نہ بنائے جائیں گے تو اوروں کو بھی مکان بنانے کی تحریک نہ ہوگی۔ان دو خیالات کے ماتحت میں نے یہ کام شروع کیا تھا لیکن پہلے ہی دن مجھے معلوم ہو گیا کہ اس میں کامیابی حاصل ہوگی۔پہلی دفعہ تین ایکٹر زمین فروخت کرنے کے لئے منتخب کی گئی۔لوگوں کا خیال تھا اور میرا بھی یہی خیال تھا کہ کچھ عرصہ میں یہ زمین فروخت ہو گی مگر اس تین ایکٹر کے لئے دو تین دن میں ہی درخواستیں آگئیں اور ابھی اور