انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 551

۵۵۱ نامی ایک شہر کے لوگ (جسے اب مدینہ کہتے ہیں) حج کے لئے مکہ آئے تو آپ سے بھی ملے- آپ نے ان کو اسلام کی تعلیم دی اور ان لوگوں کے دلوں پر ایسا گہرا اثر کیا کہ انہوں نے واپس جاکر اپنے شہر کے لوگوں سے ذکر کیا اور ستّر ۷۰ آدمی دوسرے سال تحقیق کے لئے آئے جو سب اسلام لے آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ان کے شہر میں چلے جائیں مگر آپ نے اس وقت ان کی بات پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا- ہاں وعدہ کیا کہ جب ہجرت کا موقع ہوگا آپ مدینہ تشریف لائیں گے- مدینہ کی طرف ہجرت جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اب باہر بھی آپ کی تعلیم پھیلنی شروع ہوئی ہے تو انہوں نے ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی چُنا تاکہ سب مل کر آپ کو رات کو قتل کردیں اور یہ اس لئے کیا کہ اگر آپ کی قوم اس کو ناپسند کرے تو وہ سب قوموں کے اجتماع سے ڈر کر بدلہ نہ لے سکیں- آپ کو اﷲتعالیٰ نے پہلے سے بتادیا تھا- آپ اسی رات مکہ سے نکل کر ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں کے لوگوں پر اسلام کی تعلیم کاایسا اثر ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں قریباً سب مدینہ کے لوگ اسلام لے آئے اور آپ کو انہوں نے اپنا بادشاہ بنالیا اور اس طرح وہ کونے کا پتھر جسے اس کے شہر کے معماروں نے ردّ کردیا تھا مدینہ کی حکومت کا تاج بنا۔زمانہ ترقی میں حضور ﷺ کا اُسوہ اس ترقی کے زمانہ میں بھی آپ نے اپنا شغل تعلیم اور وعظ ہی رکھا اور اپنی سادہ زندگی کو کبھی نہیں چھوڑا- آپ کا شغل یہ تھا کہ آپ لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی تعلیم دیتے- اخلاقِ فاضلہ اور معاملات کے متعلق اسلامی احکام لوگوں کو سکھلاتے- پانچ وقت نماز خود آکر مسجد میں پڑھاتے- (مسلمانوں میں بجائے ہفتہ میں ایک مرتبہ عبادت کرنے کے پانچ دفعہ روز مسجد میں جمع ہو کر عبادت کی جاتی ہے) جن لوگوں میں جھگڑے ہوتے آپ فیصلہ کرتے- ضروریات قومی کی طرف توجہ کرتے جیسے تجارت، تعلیم، حفظان صحت وغیرہ اور پھر غرباء کے حالات معلوم کرتے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے حتیّٰ کہ جن لوگوں کے گھروں میں کوئی سودا دینے والا نہ ہوتا ان کے لئے سودا لادیتے- پھر باوجود ان سب کاموں کے کبھی بچوں کے اندر قومی روح پیدا کرنے کے لئے ان میں جا کر شامل ہوجاتے اور ان کو ان کی کھیلوں میں جوش دلاتے- جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں سے مل کر گھر کا کام کرنے لگتے اور جب رات ہوتی اور سب لوگ