انوارالعلوم (جلد 8) — Page 541
۵۴۱ کرتے تھے۔حضرت خدیجہؓ سے شادی جب اس نیکی کا چرچا بہت ہونے لگا تو ۲۵سال کی عمرمیں آپ کو مکہ کی ایک مالدار تاجر عورت خدیجہ نے نفع پر شراکت کا فیصلہ کر کے تجارت کے لئے شام کو بھیجا اور آپ کے ساتھ ایک غلام بھی گیا۔اس سفر میں آپ کی نیکی اور دیانتداری کی وجہ سے اس قدر نفع ہوا کہ پہلے خدیجہ کو کبھی اس قدر نفع نہ ملا تھا اور آپ کے نیک سلوک اور شریفانہ برتاؤ کا ان کے غلام پر جس کو انہوں نے ساتھ بھیجا تھااس قدر اثر ہوا کہ وہ آپ کو نہایت ہی پیار کرنے لگا اور اس نے حضرت خدیجہؓ کو سب حال سنایا۔ان کے دل پر بھی آپ کی نیکی کا اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے آپ سے شادی کی درخواست کی اور آپ نے اسے منظور کرلیا۔اس وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر ۴۰ سال کے قریب تھی اور آہ کی عمر صرف ۲۵ سال۔۴۷؎ غلاموں کو آزاد کرنا خدیجہؓ نے نکاح کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جس قدر مال ان کے پاس تھا اور غلام ان کی خدمت میں تھے پیش کردیئے اور کہا کہ یہ سب کچھ اب آپ کا ہے اور آپ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ سب غلاموں کو آزاد کر دیا اور اس طرح اپنی جوانی میں وہ کام کیا جو اس سے پہلے بوڑھے بھی نہیں کر سکتے تھے۔گوشہ تنہائی میں عبادت کی عادت آپ اپنے ملک کی خرابیوں کو دیکھ کر بہت افسرده رہتے تھے اور بالعموم شہرسے تین میل کے فاصلہ پر "حرا" نامی پہاڑ کی چوٹی پر ایک پتھروں کی غار میں بیٹھ کر اپنے ملک کی خرابیوں اور شرک کی کثرت پر غور کیا کرتے تھے اور اس جگہ ایک خدا کی پرستش کیا کرتے تھے۔اس عبادت میں آپ کو اس قدر لطف آتا تھا کہ آپ کئی دفعہ کئی کئی دن کی غذا گھر سے لے کر جاتے تھے اور کئی کئی دن اس غار میں رہتے تھے۔۴۰ سال کی عمر میں الہام الہٰی کانزول آخر جب کہ آپ ۴۰ سال کی عمر کے تھے آپ پر خدا کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ خدا تعالی کی عبادت کر اور اس سے علم کی ترقی اور روحانی عزت اور اُن علوم کے حصول کے لئے دعا کر جو پہلے دنیا کو معلوم نہ تھے۔آپ ؐکی طبیعت پر اس وحی کا ایسا ثرہوا کہ آپ گھبرا کر گھر آئے اور اپنی بیوی حضرت خدیجہؓ