انوارالعلوم (جلد 8) — Page 534
۵۳۴ اب کیا کیا جائے؟ مگر چونکہ ایک اصول پر ریفارم سکیم کی بنیاد پڑچکی ہے اور ان سے اس کو ہٹانا شاید اصول سیاست کے خلاف سمجھا جائے۔اس لئے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں جن کے علاج سے موجودہ شورش میں کچھ کمی ہوسکتی ہے- پیشتر اس کے کہ میں علاج بتاؤں میں موجودہ شورش کی نسبت آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں- اس وقت ہندوستان میں حد اعتدال سے باہر دو پارٹیاں ہیں اور یہ دونوں پارٹیاں عدم تعاون کے عنوان کے نیچے کام کرتی ہیں- ان میں سے ایک مسٹر گاندھی کی پارٹی ہے جس کا یہ خیال ہے کہ گورنمنٹ سے کلی طور پر عدم تعاون کرنا چاہیے- نہ کونسلوں میں جانا چاہیے، نہ اس کے اسکولوں میں داخل ہونا چاہیے، نہ اس کی عدالتوں میں جانا چاہیے- دوسری پارٹی کے لیڈر داس اور نہرو ہیں اول الذکر بنگال کے اور ثانی الذکر یوپی کے مشہور وکیل ہیں- ان کی پارٹی کا یہ خیال ہے کہ ہمارے نان کو آپریٹ کرنے سے گورنمنٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جب کہ دوسرے لوگ ایسے موجود ہیں جو گورنمنٹ سے کوآپریٹ کرنے کے لئے تیار ہیں- اس لئے ان کے نزدیک ایسی کو آپریشن جس کا آخری نتیجہ مؤثر نان کو آپریشن ہوجائے جائز ہے اور اس اصل کے ماتحت یہ لوگ کونسلوں میں داخل ہوئے ہیں اور ان کی ایک غرض تو اس سے یہ ہے کہ انگلستان کے لوگوں پر ثابت کردیں کہ یہ امر غلط ہے کہ ملک کی رائے ان کے خلاف ہے- چنانچہ کثرت سے ان لوگوں کے نامزد کردہ ممبر کامیاب ہوئے ہیں سوائے پنجاب کے جہاں ان کو بہت ہی کامیابی ہوئی ہے- دوسری غرض ان کی یہ ہے کہ جو لوگ گورنمنٹ سے کوآپریٹ کرنا چاہتے ہیں ان کو جہاں تک ہوسکے کونسلوں سے نکال دیں تاکہ گورنمنٹ اور رعایا کا تعلق کمزور ہوجائے- تیسری غرض ان کی یہ ہے کہ کوآپریٹرز کو نان کوآپریشن پر مجبور کریں اور وہ اس طرح کہ جب کوئی ایسا موقع آئے کہ جس میں ان کی رائے اعتدال پسندوں سے مل جائے تو اس وقت گورنمنٹ کو شکست دے کر اس کے غیر مقبول ہونے کو ظاہر کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کونسلوں میں داخل ہونے کے بعد جو لوگ پہلے اشتراک فی العمل کے حامی تھے مگر اب ان کے داخل ہونے کے سبب سے چونکہ ان کی اور نان کوآپریٹروں کی خدمات کا مقابلہ کرنے کا ملک کو موقع ملتا ہے اس لئے وہ اس پالیسی کو اختیار نہیں کرسکتے اور ان کو اپنی عزت اور اپنے نام کے