انوارالعلوم (جلد 8) — Page 505
۵۰۵ (FOREIGN) حکومت کیوں حکومت کرتی ہے؟ (اس پر طالب علم مذکور نے کہا کہ ہاں اصل سوال یہی ہے) میں اس سوال کا بھی جواب اصولی طور پر دیتا ہوں آپ مانتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی دوسروں پر حکومت کی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوئے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اسوہ تھے اور ان کے بعد اسلامی حکومت کا دائرہ اور بھی وسیع ہوتا گیا۔یہاں تک کہ ایران ،مصر،شام اور دُور تک اسلامی حکومت پہنچ گئی۔اب اگر کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر حکومت کرنے کا حق نہیں تو سوال ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں کو دوسروں پر حکومت کرنے کا کیا حق تھا؟ اور دوسری قوموں پر اسلامی حکومت کی بنیاد خود آنحضرت ﷺ کے وقت میں پڑی ہے۔اس لئے ہم یہ کہنے کے مجاز نہیں کہ یہ طریق غلط تھا۔اب فرض کرو کہ اسلامی حکومت کے زمانہ میں عراق و شام کہتے کہ ہم تمہارے علاقہ میں نہیں رہتے اور فرض کرو کہ خالد اور ابو عبیدہ کی جگہ میں اور آپ ہوتے اور ہم سے یہ سوال کیا جاتا کہ ہم آپ کے ماتحت نہیں رہنا چا ہتے آپ اپنے ملک کو چلے جائیں تو ہمارا کیا جواب ہوتا۔(اس موقع پر طالب علم مذکور سوچ میں پڑ گیا لیکن خلیفہ عبد ا لحکیم صاحب جو خلیفہ رجب الدین صاحب لاہوری کے بھتیجے اور خواجہ کمال الدین صاحب کے رشتہ دار تھے بول اُٹھے) ان کو سیکنڈری پوزیشن دو جیسے انگریز ہندوستان میں ہیں وہ غلامی پیدا کرتا ہے۔مفتوح سے زیادہ ذلیل پوزیشن کسی کی نہیں ہوتی۔اس کے تمام امور میں غلامی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے اوڈوائر نے پیروں کو جمع کر لیا اور وہ سب کے سب اس کے دروازے پر پہنچے۔اور جس قسم کا ایڈریس اس نے جواب چاہا دے دیا( یہ فقرے کچھ ایسے طور پر خلیفہ عبد ا لحکیم صاحب نے ادا کئے جن سے طنز کا رنگ نمایاںتھا) حضرت نے ہنستے ہوئے فرمایا:۔ہم تو اس موقع پر نہ تھے۔آپ کہتے ہیں ایسا ہوا شاید آپ ہوں گے، آپ کے کہنے سے مان لیتے ہیں۔پروفیسر صاحب پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ جھٹ بول اٹھے۔نہیں نہیں میری مراد آپ سے نہیں تھی اور آپ ان میں شریک نہ تھے۔حضرت:- یہاں تو اصول کا سوال ہے اور اصولاًاس کو حل کرنا چاہئے۔میں پوچھتا ہوں کہ کسی وجہ سے کسی قوم نے حملہ کر کے دوسری قوم کو فتح کرلیا تو کیا آپ کے نزدیک ایسے اسباب ہو سکتے ہیں کہ جس کوفتح کیا ہے اس کو ہمیشہ مفتوح رکھے۔