انوارالعلوم (جلد 8) — Page 18
۱۸ جُرم ثابت ہے یہ بات سمجھ سے بالا ہے کے ایک شخص ایک لمبے عرصہ سے بہائی مذہب اختیار کر چکا ہے لیکن وہ اس کا اعلان نہیں کرتا اور جس انتظام میں وہ منسلک ہونا ظاہر کرتا ہے اس کے امام یا کسی ذمہ دار شخص کے سامنے اپنے نئے عقائد کا اظہار نہیں کر تا بلکہ خفیہ خفیہ اور اخفاء کی تاکید کرتے اور اقرار لیتے ہوئے ناواقف شخصوں کے سامنے اپنے خیالات کو اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ گویا وہ ان خیالات کی تبلیغ و تلقین کرنا چاہتا ہے پھرمدعی بنتا ہے کہ اس کی نیت صالح ہے جس نتیجہ پر ہم پہنچے ہیں اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب مولوی محفوظ الحق صاحب کو یہ پتہ لگا کہ حکیم ابو طاہر صاحب جن کو وہ گاہے گاہے اپنے عقائد کی تلقین کرتے رہتے تھے اب واپس وطن کو جانے والے ہیں تو انہوں نے خاص طور پر ان سے کہہ کر الگ بات کرنے کے لئے وقت لیا۔تین دن کے لئے تین تین گھنٹے وقت مانگا اور پھر ان کو الگ لے جا کر مخفی طور پر سلسلہ احمدیہ سے بد ظن کرنے اور بہائی عقائد کو منوانے کی کوشش کرتے رہے اور ساتھ ہی ان کو یہ تاکید بھی کر دی کہ کسی سے اس امر کا ذکر نہ کریں۔گویا کہ ان کے لئے ازالہ شکوک کا دروازہ بھی بند کرنا چاہا۔اسی طرح اور شہادتوں اور قرائن سے ثابت ہے کہ مولوی محفوظ الحق صاحب اور ان کے ساتھی خطرناک اخفاءِ مجرمانہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور سازش اور فتنہ کا رنگ اختیار کیا ہے۔اللہ دتہ کا جُرم جو دو باتیں ہم نے اس الزامات کا خلاصہ نکالا ہے ، ان کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ماسٹر اللہ دةہ عبد الصمد ملزم نمبر۲ کے متعلق ہم مندرجہ ذیل نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہائی کہلانے سے انکاری ہے مگر اس کے مجموعی بیان سے اور اس کی ان کارروائیوں سے جو وہ بہائی مذہب کی تائید میں وقتاًفوقتاً کرتا رہا ہے اور گواہوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دراصل وہ بہائی مذہب کا مصدق ہے اور بہائی مذہب کے لئے اس کی تبلیغی کوششیں علمی صاحب کی کوششوں سے بھی ظاہر طور پر زیادہ نمایاں ہیں۔وہ شریعت جد یدہ کا مجوز ہے اور دَور ِاسلام کو ختم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود کو اپنی ایک من گھڑت اصطلاح کی رُو سے کسی اصل مسیح موعود کا ظل مانتا ہے۔اور وہ نوجوان ناواقف احمدیوں بلکہ بالکل جاہل ناخواند ہ دیہاتیوں تک اپنا اثر پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہے ، اور اپنے رفیق مولوی علمی صاحب کی طرح یہ بھی اخفائے مجرمانہ اور سازش اور فتنہ کا مرتکب ہوا۔