انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 482

۴۸۲ دوره یو رپ سنا اور وہ آپ کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہیں- کیا کوئی جھوٹا شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کی اتباع سے لوگ اسی طرح خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں جس طرح کہ پہلے لوگ پہنچا کرتے تھے- کیا ایسے شخص کا دعویٰ تھوڑے ہی دنوں میں جھوٹاثابت ہو کر اس کی رسوائی اور ذلت کا موجب نہیں ہوگا؟ اہل پورٹ سمتھ کے لئے بشارت اے پورٹ سمتھ کے لوگو! میں تمہارے لئے ایک بشارت لایا ہوں- ایک عظیم الشان بشارت یعنی خدا کا پیغام کہ اس نے تم کو چھوڑا نہیں- اس کی رحمت کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں- ان میں داخل ہونا تمہارے اپنے اختیار میں ہے- اس کی بتائی ہوئی شریعت پر عمل کرو اور اسی زندگی میں ایک زندہ خدا کی طاقتوں کو دیکھ لو- سب مذاہب اُدھار پر لوگوں کو خوش کرتے ہیں مگر مسیح موعودؑ جو چیز پیش کرتا ہے وہ نقد ہے- مرنے کے بعد نہیں بلکہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ سے یگانگت کا وہ وعدہ دیتا ہے- وہ باتیں جن کو تم حیرت اور استعجاب سے بائیبل میں پڑھتے تھے آج اس کے ذریعہ سے ممکن ہوگئی ہیں- تجربہ کرو اور دیکھ لو- خدا کی طرف سے پکارنے والا مسیح موعودؑ کی زندگی تمہارے لئے ایک نمونہ ہے اور قرآن شریف تمہارے لئے ایک کامل راہ نما ہے- کیا یہ امر لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ آج سے ۳۴چونتیس سال پہلے ایک شخص نے جنگل سے آواز دی کہ دیکھو خدا کی طرف سے پکارنے والے کو سنو! ایک منادی کی آواز کو- خدا کی رحمت کے دروازے کھولے گئے ہیں- وہ اپنی مخلوق کی بہتری کی طرف متوجہ ہوتا ہے- وہ میرے ذریعہ سے سب دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا چاہتا ہے- وہ دنیا کو شک اور شبہ کی زندگی سے نکال کر یقین کا پانی پلانا چاہتا ہے- شہروں کے لوگ ہنسے- بستیوں کے لوگوں نے تیوری چڑھائی ،حکومتوں نے اسے حقارت سے دیکھا، رعایا نے اس سے تمسخر کیا مگر اس کی آواز باوجود ہر قسم کی مخالفتوں کے بلند ہونی شروع ہوئی- وہ باریک بانسری کی آواز بلند ہوتے ہوتے ایک بگل کی آواز بن گئی اور سونے والے گھبرا گھبرا کر بیدار ہونے لگےایک نے یہاں سے ایک نے وہاں سے اس آواز کی طرف دوڑنا شروع کیا- وہ منادی ایک سے دو ہوا اور دو سے چار حتیّٰ کہ چونتیس سال کے عرصہ میں اس کی جماعت کی تعداد ایک ملین کے قریب پہنچ گئی اور پچاس ملکوں میں اس کے ماننے والے پیدا ہو گئے۔