انوارالعلوم (جلد 8) — Page 480
۴۸۰ دوره یو رپ ہوتے ہیں اور چاہیے کہ جو نعمتیں اسے ملیں ان سے بجائے حکومت اور غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے اپنے سے کمزور لوگوں کی خدمت کرے۔خدائی پیغام یہ وہ پیغام ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعودؑ لائے ہیں اور ہر ایک شخص ادنیٰ سے غور سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ پیغام کیسا اہم اور کیسا ضروری ہے- یہ پیغام امید کا پیغام ہے امن کا پیغام ہے اور حکمت کا پیغام ہے- اگر دنیا اس پیغام کی طرف توجہ کرے تو اس کی تمدنی اور روحانی دونوں حالتوں کی اصلاح ہوجائے- یہ پیغام انسان کی طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے- مسیح موعود یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی عقل سے یہ باتیں تم کو سناتا ہوں بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں تم کو وہ کچھ کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ میں تم کو سناؤں اور خدا تعالیٰ کے پیغام سے زیادہ اہم اور کونسا پیغام ہو سکتا ہے۔ہمیں کیونکر تسلی حاصل ہو سکتی ہے؟ اے بہنو اور بھائیو! اگر انسان کو خدا تعالیٰ پر یقین ہو تو وہ کبھی قصّوں اور کہانیوں پر تسلی نہیں پاسکتا- ہمیں اپنی مذ ہبی کتابوں میں یہ پڑھ کر کہ پرانے زمانہ میں خدا تعالیٰ اس طرح بولا کرتا تھا کیا تسلی ہوسکتی ہے- اگر وہ پچھلے زمانوں میں نشان دکھایا کرتا تھا اور اب وہ ایسے نشان نہیں دکھاتا تو ہمیں اس سے کس طرح محبت ہوسکتی ہے- اس کے تویہ معنے ہیں کہ پرانے زمانے کے لوگ خدا کے پیارے تھے اور ہماری طرف اس کو کوئی توجہ نہیں- کیا یہ خیال محبت پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے یا نفرت- کیا ایسے خدا سے کوئی شخص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے جو خدا اپنا دروازہ ہمارے منہ پر بند کرتا ہے؟ ہم یہ بھی تسلیم نہیں کرسکتے کہ جب کہ انسان روز بروز علمی ترقی کی طرف جارہا ہے، خدا تعالیٰ کی قوتیں باطل ہورہی ہیں کیونکہ گو ہم یہ نہیں مان سکتے کہ خدا تعالیٰ کی قوتیں ترقی کررہی ہیں مگر ہم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اس کی صفات میں ضعف پیدا ہورہا ہے- اس کا کمال اس کے غیر متبدّل ہونے میں ہے- تبدیلی خواہ بہتری کی طرف ہو خواہ تنزّل کی طرف نقص پر دلالت کرتی ہے اور نقص سے اس کی ذات پاک ہے۔فطرت انسانی اس امر پر گواہی دے رہی ہے کہ اسے اوپر سے کوئی ہدایت ملنی چاہیے اور سپرچول (Spirtual) سوسائیٹیاں جو ہزاروں کی تعداد میں دنیا میں قائم ہو چکی ہیں اس امر پر شاہد ہیں کہ انسان اس دنیا کے علم پر قانع نہیں مگر کیا ہم یقین کرسکیں گے کہ ہمارے آباء کی