انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 476

۴۷۶ دوره یو رپ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن و حی پائی۔ہم نے اسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبردست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا‘‘ ۲۷؎ (۴) دیکھو !میں یہ کہہ کر فرضِ تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ۔خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو۔دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے‘‘ ۲۸؎ ٍ (۵) "یہ مت سمجھو کہ صرف منہ سے چند الفاظ کہہ دینے سے تم اپنی ہستی کے مقصد کو پالو گے۔خداتعالی تمہاری زندگیوں میں مکمل تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۲۹؎ ٍ (۶) ’’اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔اور کسی پر تکبر نہ کروگو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمد رد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ - بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیئے ہیں۔ببہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ انکی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل۔اور امیر ہو کر غریبوں کی خد مت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقوی ٰاختیار کرو۔اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ - اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو۔اور اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے۔چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔۳۰؎ (۷) تم بھی انسان ہو جیسا کہ میں انسان ہوں۔اور وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیده ہو جاؤ گے۔۳۱؎