انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 475

۴۷۵ دوره یو رپ آدمی رہتا ہو گا۔اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہاری ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی محض تم خدا کے لئے ہو جائے گی اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم خد ا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلق کو نہیں توڑو گے بلکہ آگے قدم بڑھاؤگے تو میں سچ مچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے‘‘ ۲۴؎ پھر آپ فرماتے ہیں۔(1) ’’سمجھ لو کہ تمہارا خدا ایک ہی ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ - نہ زمین میں نہ آسمان میں۔تمہیں اپنے مدعا کے حصول کے لئے ان ذرائع سے منع نہیں کیا جاتا جو خداتعالی نے تمہارے لئے مہیا کئے ہیں۔مگر وہ جو خدا کو چھوڑتا ہے اور محض مادی اشیاء پر اعتماد کرتا ہے وہ اس خدا کے ساتھ اَور کو شریک ٹھہرا تا ہے جس پر ہمارا کُلّی بھروسہ ہونا چاہے"۔۲۵؎ (۲) ” خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اور روح القدس اب اتر نہیں سکتا بلکہ پہلے زمانوں میں ہی اُتر چکا قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگروحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ سچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الہٰی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدا اس کے ساتھ نہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہرا یک دروازہ بند ہو جاتا ہے مگر روح القدس کے اترنے کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا۔تم اپنے دلوں کے دروازے کھول دو تا وہ ان میں داخل ہو۔تم اس آفتاب سے خود اپنے تئیں دُور ڈالتے ہو جب کہ اس شُعاع کے داخل ہونے کی کھڑکی کو بند کرتے ہو۔اے نادان! اٹھو اور اس کھڑکی کو کھول دے۔تب آفتاب خود بخود تیرے اندر داخل ہو جائے گا۔جبکہ خدا نے دنیا کے فیضوں کی راہیں اس زمانہ میں تم پر بند نہیں کیں بلکہ زیادہ کیں۔تو کیا تمہارا ظن ہے کہ آسان کے فیوض کی راہیں جن کی اس وقت تمہیں بہت ضرورت تھی وہ تم پر اس نے بند کردی ہیں ہرگز نہیں بلکہ بہت صفائی سے وہ دروازہ کھولا گیا ہے‘‘ ۲۶؎ (۳) تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی۔جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے۔جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔جو شخص اس پر ایمان نہیں لا تاوه