انوارالعلوم (جلد 8) — Page 15
۱۵ (۱۰) علاوہ مذکورہ بالا طریقوں کے بعض اور طریقوں سے بھی آپ بہائی مذہب کی اشاعت اور سلسلہ احمدیہ کے کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ امر تھے جن کی تحقیقات کے لئے کمیشن مقرر کیاگیا تھا میشن نے جو تحقیقات کی وہ یہ ہے۔کمیشن کی تحقیقات (1) مولوی محفوظ الحق صاحب علمی کے بیان اور گواہوں کی شہادت سے ثابت ہے (۲) ایضاً (۳) ایضاً (۴) مولوی صاحب کے اپنے بیان سے صرف اس قدر ثابت ہے کہ انہوں نے اپنے مضامین میں بہاء اللہ کے دعاوی کی تصدیق کو مد نظر رکھا ہے۔(۵) مولوی صاحب کے اپنے بیان اور نیز شہادتوں سے ثابت ہے کہ مولوی علمی صاحب نے بعض لوگوں کو کتا بیں خود یا ان کے مانگنے پر دی ہیں۔(۶) ثابت ہے۔(۷) مولوی صاحب کے اپنے بیان سے اخفاء تو ثابت ہے لیکن وہ اس کو سازش اخفاء تسلیم نہیں کرتے۔مگر شہادتوں سے اور ان کے عام رویہ سے اور خصوصاً حکیم ابو طاہر صاحب کی شہادت سے یہ بات ثابت ہے کہ نہ صرف اخفا کیا گیا کہ اسی رنگ میں اخفاء کیا گیا کہ گویا مولوی صاحب کا یہ منشاء اور کوشش تھی کہ یہ بات ایست اصحاب تک نہ پہنچے کہ جو اس کا ردّیا مقابلہ کر سکیں اور ان کو خفیہ خفیہ کمزو رطبائع کے آدمی یا ناواقف لوگوں پر اپنا اثر ڈالئے اور بہائی تعلیم کے پھیلانے کا موقع مل جائے۔(۸) یہ بات یقینی طور پر ثابت نہیں مگر مولوی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی طرف سے ان کی بیوی کو بہائی نماز سیکھنے کے لئے دی گئی ہے۔روزے رکھنا یا رکھوانا ثابت نہیں ہوا۔لیکن اس کی تحقیق میں کمیشن نے زیادہ توجہ بھی نہیں کی کیونکہ ملزم نے صاف الفاظ میں تسلیم کر لیا تھا کہ وہ بہائی ہے تمام بہائی تعلیمات اور عقائد کو مانتا ہے۔مولوی صاحب نہیں مانتے لیکن حکیم صاحب کی شہادت سے یہ ثابت ہے کہ مولوی صاحب نے ان سے یہ اظہار گیا تھا کہ ان کے خیال میں نماز کے اوقات کی پابندی ضروری نہیں جس وقت دل میں