انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 471

۴۷۱ دوره یو رپ اگر کوئی خدا ہے اور اگر وہ دنیا کی اصلاح کے لئے کوئی پیغام بھیجتا ہے اور اگر اس کا پیغام واقع میں دنیا کے فائدہ کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے نہ کہ بے معنی اور بے فائدہ باتوں پر تو جو شخص اس کلام کا انکار کرے یا اس کی طرف سے منہ پھیرے ضرور اسے اپنے عمل کا خمیازہ بھگتنا چاہیے- ہم کسی شخص کو کسی جگہ کا راہ بتادیں اور وہ باوجود ہماری ہدایت سے بے پروائی کرنے کے بے تکلّف اور بے تکلیف کے منزل مقصود پر پہنچ جائے تو یقیناً ہماری ہدایت کی غلطی ثابت ہوگی اگر ہماری ہدایات درست ہوتیں تو وہ شخص کبھی بغیر ٹھوکریں کھانے اور اپنی اصلاح کرنے کے منزل مقصود پر نہ پہنچ سکتا- اسی طرح اگر خدا کا کلام بھی کسی ہدایت پر مشتمل ہوتا ہے تو یقیناً ا س کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں انسان کو دکھ پہنچنا چاہیے نہ اس لئے کہ خدا ایک کینہ رکھنے والی ہستی ہے بلکہ اس لئے کہ خلاف کرنے والے نے اس راستہ پر قدم مارا جو تکلیفوں اور دکھوں کا راستہ تھا- خدا کا کلام اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کا امتحان لے بلکہ اس لئے آتا ہے کہ تا وہ لوگوں کو اس راستہ کی خبر دے جو منزل مقصود تک پہنچنے کا صحیح راستہ ہے۔پیغام آسمانی کی اہمیت میری غرض اس تمام تمہید سے یہ ہے کہ پیغام آسمانی کوئی معمولی بات نہیں کہ انسان اس کی طرف سے منہ پھیر لے اور کچھ ضرر نہ پائے بلکہ وہ طبعی قانون کی طرح ایک روحانی قانون ہے جس کی خلاف ورزی روحانی صحت سے انسان کو محروم کردیتی ہے جس طرح زہر کھا کر کوئی شخص اس کے اثر سے بچ نہیں سکتا اسی طرح خدا کے کلام کا انکار کرکے بھی انسانی روح اس کے بد اثر ات سے بچ نہیں سکتی- اس کے مطابق عمل کرنا اس پر احسان نہیں بلکہ اپنی جان پر احسان ہے اور اس کی خلاف ورزی سے خدا تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں بلکہ اس میں ہمارا اپنا نقصان ہے۔پیغام آسمانی کی ضرورت پیغام آسمانی کی اہمیت کے بتانے کے بعد میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ چونکہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرے اور تقدس اور کمال پیدا کرے اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے پیغام اس کو ملتے رہیں جو اس کی توجہ کو قائم رکھیں اور اس کی دلچسپی کو باطل نہ ہونے دیں- یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ خدا تعالیٰ جس کی نسبت ہم یقین رکھتے ہیں کہ منبع علم وحکمت ہے وہ انسان کو ایک خاص غرض کے لئے پیدا کرکے پھر اس کو چھوڑ دے گا کہ اب جو چاہے وہ کرتا پھرے اور اس طرح اپنے کام کو خود باطل کر دے گا- پھریہ بھی