انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 462

۴۶۲ دوره یو رپ ہونیوالی ہے۔کاش!اس امر کی مجھے سچی توفیق مل جائے۔طبّی مشورہ ٍمکرمی ومعظمی ڈاکٹر میر اسمعیل صاحب نے مجھے طبی طور پر مشورہ دیا ہے کہ میں صحت کی کمزوری کو دور کرنے کے لئے کچھ عرصہ تک زیادہ سوؤں مگر ان کو کیا معلوم ہے کہ یہاں باقاعدہ دویا تین بجے سونے کاموقع ملتا ہے اور غالباً آنے والے دنوں میں کام اور زیادہ بڑھ جائے گا۔کیونکہ اب انشاء الله مختلف لیکچروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔اور چونکہ مجھے اردو میں مضمون لکھنا پڑتا ہے تاکہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے اس لئے وقت بہت ہی لگتا ہے۔انسان دوگھنٹہ میں جس قدر مضمون بیان کر سکتا ہے اس کو چھ سات دنوں میں لکھ سکتا ہے۔پس اس مشکل کی وجہ سے کام بہت بڑھ رہا ہے۔لیکچروں کا پروگرام انشا الله تم ان کو میرالیکچر’’ پیام آسمانی‘‘ پر پورٹ سمتھ نامی شہر میں ہو گا۔اس کے بعد پانچ دن کولنڈن میں انیس 19 تاریخ کو "حیات بعد الموت‘‘ پر لیکچر ہو گا۔تیئس (۲۳) کو اس کانفرنس میں لیکچر ہے جو یہاں آنے کا محرّک ہوگئی ہے۔گو موجب نہیں۔چھبیس (۲۶) کو ایک لیکچر ہندوستان کے موجودہ حالات پر ایک سیاسی انجمن کی درخواست پر قرار پایا ہے۔پھر انتیس (۲۹) کو ایک نوجوانوں کی انجمن میں رسول کریم ﷺکی زندگی پر لیکچر ہے۔انشاء التعالیٰ احباب کو مختلف مقامات پر بھیجنا میرایہ منشاء ہے کہ کام زیادہ وسیع کرنے کے لئے مختلف احباب کو انگلستان کے مختلف شہروں میں پھیلادوں اس سے خرچ تو کچھ زیادہ ہو جائے گا مگر انشاء الله کام بہت وسیع ہو جائے گا اور آواز دور دور تک پھیل جائے گی۔دشمن کی ہنسی اور تمسخر گو دشمن ہنسے گا اور تمسخراُڑائے گامگر میں اس کی ہنسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بات کے اظہار سے نہیں رُک سکتا کہ خدا تعالی کے فضل سے انگلستان کی روحانی فتح شروع ہو چکی ہے۔میرا منشاء خواجہ صاحب کی طرح یہ نہیں کہ چونکہ انگلستان سَو اخباروں نے یا اس سے بھی زیادہ اخباروں نے سلسلہ کے متعلق تعریفی الفاظ میں نوٹ لکھے ہیں پس معلوم ہوا کہ انگلستان مسلمان ہوگیا ہے۔بلکہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ ایک روحانی امر ہے جس کو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جن کی روحانی آنکھیں ہوں۔