انوارالعلوم (جلد 8) — Page 450
۴۵۰ دوره یو رپ تیس عکّہ میں ہیں۔یہ بھی لوگوں نے بتایا کہ مرزا عباس علی صاحب جمعہ کی نماز مسلمانوں کے ساتھ مل کر پڑھا کرتے تھے۔اور لوگ لطیفہ کے طور پرذکر کرتے تھے کہ بہائی لوگ جب نماز کے موقع پر مسلمانوں میں گھر جائیں تو نماز ادا کر لیتے ہیں مگر کبھی ان کو وضو کرتے نہیں دیکھا۔شوقی آفندی صاحب کے مکان کے دیکھنے سے طبیعت پر یہی اثر پڑتا ہے کہ بہائی لیڈر پرانی گدیوں کے نقش قدم پر ہے۔اس کی ذات کے باہر کوئی ایسا انتظام نہیں ہے۔جس کے ذریعہ سے قوم کی اخلاقی اور مجلسی تربیت کا انتظام کیا جاوے۔شوقی آفندی کا باپ جب ہم مشین پر آئے تو دوصاحب ایرانی شکل و شباہت کے ہمارا پتہ پوچھتے ہوئے پہنچے۔ان میں سے ایک کی نسبت لوگوں نے ہمیں بتایا کہ شوقی آفندی کے باپ ہیں۔انہوں نے ہمارے بعض ساتھیوں سے معلوم کیا کہ ہمارے مکان پر کون لوگ گئے تھے۔میں نے معلوم کیا تو پتہ لگا کہ مولوی رحیم بخش صاحب گئے تھے۔میں نے ان کو کہہ دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں آپ کے مکان پر گیا تھا مگر باوجود ان کے بتانے کے وہ میرے پاس آئے اور دریافت کیا کہ کیا آپ میرے مکان پر گئے تھے جب میں نے بتایا کہ میں نہیں گیا تھا بلکہ میرے ساتھیوں میں سے اور شخص گیا تھا تو انہوں نے چاہا کہ ہم لوگ وہاں ٹھہریں۔لیکن میں نے ان کو بتایا کہ ہمارا پروگرام مقرر ہوچکا ہے اور ہم معذور ہیں ٹھہر نہیں سکتے۔اتنے میں ریل کے چلنے کا وقت ہوگیا اور میں سٹیشن میں داخل ہوگیا۔عکّہ کاملاحظہ دمشق سے واپسی کے وقت میں نے ارادہ کیا کہ عكّه کو بھی دیکھتے چلیں۔چونکہ بیروت سے حیفاتک ریل نہیں ہے۔ہمیں دمشق سے آتے ہوئے وہ سفر موٹروں میں کرناپڑا۔موٹر کرایہ کرتے وقت ہم نے موٹر کمپنی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ ایک گھنٹہ تک ہم عکّه میں ضرور ٹھہریں گے کیونکہ ہمیں وہاں کام ہے۔مگر ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب ہم عکّه پہنچے۔کیونکہ جب ہم نے لوگوں سے دریافت کیا کہ بہائیوں کا مرکز کہاں ہے تو سب لوگ حیرت سے ہمارا منہ دیکھنے لگے کہ عکّه میں بہائی کہاں۔آخر بڑی مشکل سے معلوم ہوا کہ بہائی اس علاقہ میں بہائیت کے نام سے نہیں بلکہ عَجمیّت کے نام سے مشہور ہیں۔بہائیوں کا مرکز مگرہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب ہمیں معلوم ہوا کہ عجمی بہائی بھی عکّه میں نہیں رہتے بلکہ عكّه سے تین چار میل پرے ایک گاؤں ہے