انوارالعلوم (جلد 8) — Page 439
۴۳۹ دوره یو رپ اس کو جماعت کا خلیفہ بنادیا آپ لوگوں کو یہ خط لکھ رہا ہے۔لیٹے لیٹے اس لئے کہ ایک تو جہاز کا ڈاکٹر اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ زیادہ اٹھے۔اور دوسرے چودہ (۱۴)ونوں کے لگاتار دوستوں نے اور متواترفاقوں نے اس میں اتنی ہمت بھی نہیں چھوڑی کہ وہ اُٹھ کر خط لکھے۔آپ بیتی ٍمیں بیت المقدس میں تھا کہ مجھے اسہال آنے شروع ہوئے وہ دوسری تاریخ تھی آج پندرھویں تاریخ ہے ہر قسم کے علاج کئے گئے ہیں مگر ایسا افاقہ جسے افاقہ کہا جاسکے ،حاصل نہیں ہوا۔آٹھ سے دس اسہال روزانہ کا تو اکثر معمول رہا ہے۔اگر بعض دفعہ اسہال کم ہوئے تو فوراً زہر سر کو چڑھ کر طبیعت اور بھی کمزور ہو جاتی تھی۔اب کل سے اس قدر فرق ہے کہ باوجود اس کے کہ اسہال چار پانچ آتے ہیں، زہریلے مادے جسم میں داخل ہو کر سر اور دل پر بد اثر نہیں ڈالتے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاز کے ڈاکٹر نے دو دفعہ دن میں انیمه بتایا ہے یہ تو آپ بیتی ہے۔اب میں مختصراًسفر کے متعلق کچھ لکھتا ہوں تفصيلاً؟ آپ لوگ دوسرے لوگوں کی رپورٹوں میں پڑھ لیں گے۔ضرورت مضمون نویسی وقائع نگاری میرا کام نہیں اور نہ میں ایسی بیماری کی حالت میں ادھر توجہ کر سکتا ہوں کہ اصل مضمون بھی نہ رہ جائے۔نہ میں ایسے مضامیں پر کچھ لکھ سکتا ہوں جن پر بحث کرنے کا مقام شورٰی کی مجلس ہے نہ کہ اخبارات کے کالم۔مگر میں ایسے اہم امور پر خودلکھنا چاہتا ہوں جو نہ اِخفاء چاہتے ہیں اور نہ دوسرے وقائع نگاروں سے متعلق ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر سب سے پہلے تو الله تعالی کا شکر اداکرتاہوں کہ اس نے اس وقت تک اس سفر کو نہایت مبارک اور کامیاب بنایا ہے۔اور میں اس کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس سے بھی زیادہ کامیاب بنائے گا۔در حقیقت اس وقت تک جو کامیابی ہوئی ہے، وہ میرے تمام ہمراہیوں کے واہمہ اور خیال سے بہت بڑھ کر ہے۔ہم میں سے بڑے سے بڑے پرواز کرنے والے شخص کو بھی اس قدر کامیابی کی امید نہ تھی۔اور در حقیقت اس کامیابی کو دیکھ کر ہر اک شخص انگشت بدنداں تھا۔میرے لئے تو وہ سر تا پا معجزہ تھی۔کیونکہ میں قبل از وقت امیدیں لگانے کا عادی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی ان باتوں سے روکتا ہوں۔مصری علماء کی مخالفت پورٹ سعید سے اتر کر میں نے مناسب سمجھا کہ شام جانے سے پہلے دو دن کے لئے قاصر ہو آویں - عزیزم شیخ محمود نے اخبارات