انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 411

۴۱۱ دوره یورپ میری کتابوں کا مقابلہ کر سکیں لیکن آج تک کسی کو یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔پھر آپ کی پیشگوئیاں ہیں جو آپ نے اپنے مشن اور انجام کار اپنی فتح کے متعلق شائع کیں اور جو ایسے طور پر پوری ہوئیں کہ انسان کے ذہن میں نہیں آسکتا۔جب آپ نے اپنا دعویٰ شائع کیا تو آپ بالکل گمنام تھے اس میں شک نہیں کہ آپ ایک معزز خاندان سے تھے لیکن جدّی جائید ادکا بڑا حصہ آپ کے والد کی وفات کے وقت ضائع ہو چکا تھا۔قادیان جو آپ کا مسکن تھا ایک چھوٹا سا اورگمنام گاؤں تھااس گاؤں میں خلوت کی زندگی بسر کرتے ہوئے آپ نے اعلان کیا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ میرے نام کو عزت دے گا اور میرے سلسلے کو پھیلائے گا اور وہ لوگوں کے دلوں میں میری ایسی محبت ڈال دے گا کہ بہت سے لوگ اپنے وطن چھوڑ کر چلے آئیں گے اور قادیان میں ہی بو دو باش اختیار کرلیں گے اور یہ کہ میرے دشمن نیست و نابود کر دیئے جائیں گے اور میرے ماننے والوں کی تعداد تمام ممالک میں بڑھتی چلی جائے گی حتی ّٰکہ تین صدیوں کے اندر اندر بنی آدم کا کثیر حصہ میری جماعت میں داخل ہو جائے گا۔آپ نے یہ پیشگوئیاں اس وقت کیں جبکہ آپ کا ایک مرید بھی نہ تھا اور گورنمنٹ اور رعایا ہر دو آپ کے مخالف تھے ایک شخص ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی صحیح اہمیت کا اندازہ نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ ان وجوہات کو نہ دیکھے جو عموماً کسی مذہب کی ترقی کا باعث ہو سکتی ہیں اور ان مشکلات پر نظر نہ کرے جو احمدیت کو در پیش تھیں اور ابھی تک ہیں۔و ہ اسباب جو عام طور پر کی مذہب کی کامیابی کے ممد ہو سکتے ہیں یہ ہیں۔اول وہ مذہب ایسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو پہلے کسی مذہب کے معتقدنہ ہوں۔دوم اس کو ایسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو پیری مریدی کے شدائد سے تنگ آگئے ہوں۔سوم اس کی رائج الوقت خیالات سے مطابقت ہو۔چہارم یہ امر کہ اس مذہب کابانی پہلے ہی قوم میں ممتاز حیثیت رکھتا ہو یا وہ ایسے خاندان سے ہو جو بوجہ اپنی دینداری کے لوگوں کی نظروں میں محترم ہو- پنجم یہ کہ اس مذہب کی جائے پیدائش کوئی بڑا پایہ تخت - ششم یہ امر کے لوگوں کو اس کی پیروی میں کوئی دنیوی فوائد کے حصول کی امید ہو۔ہفتم اپنی شریعت کے قوانین پر وہ سختی سے پابندی نہ کرواتا ہو۔ہشتم و ہ ایسی رسوم و عادات کی تائید کرے جو اس کے پیروؤں کو اس کی تعلیم کا صحیح اندازه کرنے سے روکیں۔مسیح موعود ایسی حالت میں نہ تھے کہ آپ نے ان اسباب میں سے کسی سے بھی فائدہ اٹھایا