انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 406

۴۰۶ دوره یورپ اپنی حکومت سے تعاون کرے۔لوگوں کو اپنے حقوق کے مطالبہ یا ان کی حفاظت کے لئے تدابیرکرنے کے خلاف کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن ایسا کرنے میں انہیں ایسی روش اختیار نہیں کرنی چاہئے جو امن عامہ میں نقص پیدا کرنے والی ہو یا گورنمنٹ کی طاقت کو صدمہ پہنچانے والی ہو یا جو اخلاقی نقطہ نگاہ سے قابل اعتراض ہو۔پھر آپ سمجھتے تھے کہ تاوقتیکہ ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو سچے دل سے کسی مذہب کے معتقد ہیں مذ ہبی اختلافات کا لامحالہ پیدا ہو نگے اس لئے آپ کا دعویٰ تھا کہ دنیا میں امن لانے کے لئے خدا نے آپ کو بھیجا ہے تاانسان آپ کی معرفت انجام کار ایک ہی مذہب کے نیچے جمع ہو جائیں اوراس طرح ظاہری اور باطنی امن قائم ہو جائے موجودہ حالات کے سنوارنے کے لئے آپ نے مندرجہ ذیل تجاویز کیں۔۱۔مختلف مذاہب کے بانیوں کو یا لیڈروں کو اس طریقہ سے یاد نہ کیا جائے جو ان کے پیروؤں کے احساسات کو صدمہ پہنچائے۔۲۔مذہب کی تبلیغ میں ہر ایک مذہب کے مبلّغ کو اپنے مذہب کی صرف خوبیاں بیان کرنے تک محدود رہنا چاہئے اور کسی دوسرے مذہب پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔دوسرے مذاہب کے نقص بیان کر دینا کسی کے اپنے مذہب کی صداقت کی دلیل نہیں۔مذہب کی صداقت صرف اپنی خوبیوں کے ظاہر ہونے سے معلوم ہو سکتی ہے نہ کہ دوسرے مذاہب کے نقائص کے بیان سے۔۳۔کسی مذہب کے پیروؤں کو اپنے مذہب کی طرف ایسا مسئلہ یا تعلیم منسوب نہیں کرنی چاہئے جس کا ان کے نوشتوں سے براہ راست استنباط نہیں کیا جاسکتا۔دعویٰ اور دلیل ہر دو، مذہب کو اپنی الہامی کتاب سے پیش کرنے چاہئیں۔اس اصل کی سختی سے پابندی کے بغیر کسی مذہب کی خوبیوں کے متعلق صحیح فیصلہ کرنا غیر ممکن ہے کیونکہ ایسی قید کی غیر موجودگی میں دنیا یہ معلوم نہیں کر سکتی کہ وہ تعلیم جو کسی مذہب کی طرف منسوب کی گئی ہے وہ خود اس کے نو شتوں سے لی گئی ہے یا وہ دوسرے مذاہب کے مطالعہ سے حاصل کرلی گئی ہے یا وہ زمانے کے موجودہ رو یہّ خیال سے نکال لی گئی ہے۔۴۔مختلف مذاہب کے حامیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مذہب کی تعلیم کو مجمل بیان تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پر تجربہ کر کے وہ نتائج واضح کرنے چاہئیں جو اس پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوتے ہیں تالوگ فیصلہ کر سکیں کہ وہ تعلیم کسی نتیجہ پر لے جاتی ہے یا نہیں۔