انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 400

۴۰۰ دوره یورپ کئے جاتے ہیں جو دشمن نے اس غرض سے کی کہ تلوار کے زور سے ایک مذہب کی قبولیت کو روکا جائے یا اس سے مرتد ہونے پر مجبور کیا جائے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ ایسی کوشش ایک ایسا جرم ہے جو اس کے مرتکب کو دائرہ انسانیت سے خارج کردیتا ہے وہ لوگ جو ایک شخص کی جسمانی آزادی کے چِھن جانے پر اظہار نفرت کرتے ہیں ان کو سوچنا چاہئے کہ جس کو سزاملی ہے وہ بروزِ شمشیر اس بات کی کوشش میں تھا کہ لوگوں کو جبراً خدا کی عبادت سے روکا جائے اور انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی رو حیں شیطان کے اختیار میں دیدیں۔اگر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا تولکھوکھہا انسان صداقت کو چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتے اور ابدی تاریکی میں مبتلاء ہو جاتے کیا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے اس کی آزادی واپس کر دی جائے ؟ یہاں تک کہ وہ اپنے جُرم پر نادم نہ ہو اور اپنے فعل پرسچے دل سے افسوس نہ کرے۔کیونکہ غلامی کیا ہے؟ اس کا مطلب انسان کی آزادی کو اس وقت تک قید کر لینا ہے کہ وہ اپنے حصہ کی ذمہ داری اور اپنے حصہ کے اخراجاتِ جنگ کو ادا کردے کیا کوئی اخلاقی یا ملکی وجہ ہے جو جنگی قیدیوں کو لینے سے روکے۔اسلام اجازت دیتا ہے کہ ہر ایک جنگی قیدی کو جو غلام بنایا گیا ہے اختیار ہے کہ وہ جنگ کے مصارف کا اپنا حصہ ادا کر کے اپنی آزادی خرید لے۔پس اگر ایک غلام اپنی غلامی کو اپنی آزادی سے بُرا سمجھتا ہے تو کیوں وہ خود یا اس کے رشتہ دار یا اس کے ہم وطن اس کی آزادی اس کے حصے کے ان اخراجات جنگ کو ادا کر کے نہیں خرید لیتے جو اس مظلوم قوم کو مجبوراً برداشت کرنے پڑے اور جس کامذ ہب انہوں نے کوشش کی کہ جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے۔حُرمتِ سود پھر اسلام کی تعلیم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ سود لینے اور دینے سے منع کرتا ہے۔حالانکہ سود دنیا کے اخوت و تمدن کی قدرتی بناء پر قائم نہیں بلکہ اس کو خود ایسا بنا لیا گیا ہے تھوڑا سا غور ظاہر کر دے گا کہ جیسے قرآن کریم کہتا ہے سو دہی مو جو دوہ وقت کی کثرت سے جنگوں کا موجب ہے۔اگر ایک گورنمنٹ سود پر قرض نہ لے سکے تو وہ بھی جنگ میں شریک نہ ہو سکے کیونکہ کوئی جنگ روپے کے بغیر نہیں ہو سکتی خصوصاً اس زمانے میں ایک بڑی جنگ بہت بڑی مالی قربانیوں کو چاہتی ہے اور اگر ایک گورنمنٹ ضروری رقم روپیہ کی سودوالے قرضے کے ذریعے سے نہ حاصل کر سکے تو وہ کبھی بغیر گہرے غور و فکر کے ایک ایسی کثیر مصارف والی اور تباہ کن جنگ میں حصہ نہ لے۔انکم ٹیکس کا بوجھ اور لوگوں کو محسوس ہونے لگتا ہے اور