انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 393

۳۹۳ دوره یورپ يقيناً خد ا ایک باپ اور ایک ماں سے زیادہ مہربان و رحیم ہے کیو نکہ ماں اور باپ صرف ایک ذریعہ ہوتے ہیں بچہ کی ولادت کا۔لیکن خدانہ صرف خالق ہے بلکہ انسانی زندگی کا مقصد ومدعا ہے بچہ اور والدین کا رشتہ عارضی ہے لیکن بندے اور خدا کا رشتہ ابد الآباد تک قائم رہنے والا ہے۔بہرکیف اگر وہ اپنے خاوموں کے لئے ان کی آزمائشوں میں د رد مند و مہربان ہے اور پھر بھی ان کی راہنمائی کے لئے کوئی تدبیر نہیں کرتا تو ہمیں یا تو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ اس میں بنی آدم کو صداقت کی طرف ہدایت دینے کی طاقت ہی نہیں اور یا یہ کہ خدا سے جوڑ پیدا کرنا انسانی پیدائش کی غرض ہی نہیں لیکن یہ ہر دو پہلو عقل سلیم نہیں کرتی۔یہ گمان کرنا کہ وہ جس نے اس کائنات کو پیدا کیا اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ جنسِ بشر کی روحانی ہدایت کے سامان مہیا کر سکے بالکل بیہو وہ خیال ہے۔کل کے خالق میں لازمی ہے کہ جزو کے خلق کی طاقت ہو۔اگر ہم کسی خالق کا وجود قبول کرتے ہیں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ وہ قطعی اور کامل قدرت والا ہے اور اس کے لئے کوئی چیز غیر ممکن نہیں اور وہ ہر چیز کو سوائے ایسی کے جو اس کے تقدس اور کمالیت کے متعارض ہو بنا سکتا ہے۔نہ ہی ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انسان صرف اس دنیاوی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ اس صورت میں ہمیں مجبور اً یہ ماننا پڑے گا کہ اس کامل حکیم و علیم خدا نے اس کائنات عظیم کو لغو پیدا کیا۔کبھی کوئی مشین اس غرض کے لئے نہیں بنائی گئی کہ وہ صرف اپنے آپ میں چلتی ہے ہر ایک مشین کسی خاص مطلب کے لئے تیار کی جاتی ہے۔اگر پیدائشِ انسان کی غرض صرف کھانا پینا اور سونا ہوتی تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان کو بھی اس لئے پیدا کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے آرام و آسائش کو بر قرار رکھے۔اگر ایک فرد ِبشر کی پیدائش کی کوئی غرض مد نظر نہیں تو پھر آپس میں ایک دوسرے سے تعاون زندگی کا مقصد قرار نہیں دیا جا سکتا۔علاوہ بریں ہمیں فرض کرنا پڑے گا کہ جتنے راستباز سیریا، عرب، فارس، ہند میں خواہ کسی ملک میں بھی ظاہر ہوئے نعوذ بالله تمام کاذب او رملحد تھے۔کیا ہم یہ مان سکتے ہیں کہ ایسے انسان جو بوجہ بنی آدم کی ذہنی ،اخلاقی اور روحانی ترقی کے موجب ہونے کے واجب الاحترام میں اور جنہوں نے لوگوں کے قلوب پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ مرورِ زمانہ اسے نہیں مٹا سکا وہ سب مجنون تھے اور اپنے ہی خیالات کے ڈھکوسلوں کو ایسی چیزیں بکھتے تھے جن میں زیست ہے اور جن کی عالم میں کچھ ہستی ہے۔اگر ایسا نہیں اور یقینا ًنہیں تو اس نتیجہ سے گریز کی کوئی راہ نہیں کہ دنیا میں کوئی مذہب ضرور چاہئے جو بندے کو خدا کی طرف لے جائے۔