انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 388

۳۸۸ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر مجمع البحرین (تحریر فرموده ۲تا ۹ جون ۱۹۲۴ء) (اس مضمون کا انگریزی ترجمہ ۲۳ ستمبر ۱۹۲۴ء کو مذ ہبی کانفرنس وسئبسلے لندن میں پڑھا گیا) ضروری ہے کہ پہلے میں خدا کے لااِنتہاء فضلوں کا اقرار کروں جس نے ہمیں وہ قویٰ بخش جن کے ذریعے سے ہم اس کو پورے طور پر پالیتے ہیں اور اس سے ہم کلام ہو سکتے ہیں اور میں بے شمار بار اس کی حمدوثناء کرتاہوں کہ اس نے ہمارے لئے علم کی ایسی راہیں کھول دی ہیں جو ہمیں اس کو پا لینے کی طرف لے جاتی ہیں اور اس نے ہم کو ایسا راستہ بتایا جس پر چل کر ہم اس سے تعلق جوڑ سکتے ہیں۔سلسلے کی بنیاد اور اس کی موجودہ طاقت ٍ سلسلہ احمدیہ کوئی پرانا سلسلہ نہیں یہ صرف چونتیس سال کے عرصے کا ہے۔۱۸۸۹ء میں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے خدا کے صریح حکم کے ماتحت اس کی بنیاد ڈالی۔آپ وہ مہدی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں جس کی بعثت کی خبر حضرت محمد ﷺنے پہلے سے دی تھی اور مسیح ہونے کا دعویٰ فرماتے تھے جس کے متعلق انجیل اور بعض اسلامی کتب میں پیشگوئی ہے۔اور پھر موعود مصلح کا جس کے آخری زمانے میں ظہور کے متعلق تقریباً تمام انبیاء نے پہلے سے بتا دیا تھا۔آپ کو ابتداء ہی میں تمام فرقوں اور جماعتوں کی شدید اور زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ کی آواز ثابت قدمی سے آگے نکلی اور اسے بڑھتی ہوئی کامرانی حاصل ہوئی۔مسلمان جن کو اس اسلام کے جری کی بعثت پر خوش ہونا چاہئے تھا اس کے اشد ترین دشمن ہوۓ اور ہیں۔علمائے اسلام نے اس کے خلاف فتوے جاری کر دیئے کہ یہ جھوٹا ہے اور ملحد ہے اس کی