انوارالعلوم (جلد 8) — Page 336
۳۳۶ وارد بھی ہوں گے اور بچیں گے بھی۔اس کے یہی معنی ہیں کہ جنتی اپنے حواس کی درستی کی وجہ سے ہر اک چیز کو اپنے لئے راحت بنا لے گا چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو کہے گا کہ دوزخ میں چھلانگ مار جب وہ اس میں کودے گا تو وہ اسے بالکل آرام دہ معلو ہو گی۔پس اگلے جہان کا ثواب اور عذاب ان کیفیات کا نام ہے جسے وہ روحانی جسم محسوس کرے گا جو اگلی دنیا میں ملے گا اور یہ کیفیات نتیجہ ہوں گی حواس سبعہ کے صحیح یا غلط استعمال کا۔ہاں ایک امر ہے اور وہ یہ کہ دوزخی لوگ اپنی جگہوں میں محصور ہوں گے مگر جنتی آزاد ہوں گے جس طرح بیمار بستر پر لٹایا جاتا ہے اور تندرست آزاد پھرتا ہے کیونکہ دوزخ ایک قید خانہ ہے اور جنت ایک سیر گاہ۔پس دوزخ ایک محدود مقام کا نام ہے اور جنت غیر محدود ہے۔دوزخی اپنے علاقہ سے نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ ایک بیمار کی طرح بستر پر لٹایا ہوا ہے لیکن جنتی جہاں چاہے جائے اس کے لئےہر مقام جنت ہے اگر وہ اس مقام میں بھی داخل ہو جو دوزخیوں کے لئے آگ کا کام دیتا ہے تو اسے وہ بھی گلزار ہی معلوم ہو گا مگر چونکہ دوزخی تکلیف میں ہوں گے اور تکلیف کو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے اس لئے ان کو ایک لطیف پردہ کے ذریعہ سے جنتیوں کی آنکھ سے پوشیدہ رکھا جائے گا سوائے اس کے کہ وہ خود خواہش کر کے دیکھنا چاہیں تاکہ طبیعت پر تکلیف کی حالت دیکھ کر ملال نہ آئے اور جنتی ایک دوسرے کے مدارج سے بھی غافل رہیں گے۔پھر ہر اک اپنی ہی حالت سے واقف ہو گا۔ہاں جب خدا تعالیٰ چاہے گا کہ کسی کو ترقی دے تو وہ اسے اوپر کے شخص کے درجہ کی حالت سے آگاہ کرے گا اور جب اس کے دل میں تمنا پیدا ہو گی تو اس کو وہ درجہ مل جائےگا۔کیا عذاب اور ثواب دائمی ہونگے؟ کیا عذاب اور ثواب دائمی ہوں گے؟: ایک سوال عالم آخرت کے متعلق یہ ہے کہ کیا عذاب اور ثواب دائمی ہیں؟ اسلام اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ جزائے نیک تو دائمی ہو گی مگر عذاب دوزخ دائمی نہیں ہو گا۔کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ سب انسان اس لئے پیدا کئے گئے ہیں تا خدا تعالیٰ کی صفات کا کامل مظہر بنیں۔پس اگر کچھ لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں پڑے جلتے رہیں تو وہ کامل مظہر کب اور کس طرح بنیں گے؟ قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جنت کی نعمتیں نہ کٹنےوالی اور نہ ختم ہونے والی ہوں گی مگر دوزخ کی سزاؤ کا یہ حال نہ ہو گا بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت اور اس کے فضل سے وہ آخر مٹا دی جائیں گی۔کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔پس ایک عرصہ تک جب خدا کے غضب کو بدکار بھگت لیں گے جو اس قدر لمبا عرصہ ہو گا کہ اسے انسانی کمزوری