انوارالعلوم (جلد 8) — Page 245
۲۴۵ پر ہیں۔یعنی عدل کے مقابل پر فحش۔جس کے معنے ہیں بدی کے اور جب یہ لفط منکر کے ساتھ آئے تو اس کے معنے اس بدی کے ہوتے ہیں جو پوشیدہ ہو اور ظاہر پر اس کا اثر نہ ہو۔جیسے دلی ناپاکی اور بد ارادے وغیرہ۔یہ پہلا درجہ بدی کا ہے جس طرح عدل پہلا درجہ نیکی کا ہے۔جب انسان کے اندر صحبت کے اثر سے یا بد تعلیمات کے پڑھنے سے یا بہیمی صفات کے ترقی کر جانے سے خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس کا پہلا اثر دل پر ہی ہوتا ہے۔دل میں برے برے خیال اٹھنے لگتے ہیں بدی کی طرف رغبت ہوتی ہے مگر فطرت اس کو دبا دیتی ہے اگر یہ خیالات مضبوط ہو چکے ہوں تو آخر وہ غالب آجاتے ہیں اور دل میں بدی کی گِرہ مضبوط طور پر پڑ جاتی ہے۔اس پر پھر دوسرا درجہ بدی کا شروع ہوتا ہے اور یہ اعمال بد کرنے لگتا ہے جنہیں لوگ دیکھتے ہیں اور ناپسند کرتے ہیں اور ان کے طبائع پر اس کے یہ افعال گراں گزرتے ہیں۔مگر یہ افعال زیادہ تر ایسے ہی ہوتے ہیں جو اس کی ذاتی ناپاکی پر دلالت کرتے ہیں جیسے جھوٹ بولنا بیہودہ بکواس کرنا اور اسی قسم کے اور اعمال اور ساتھ ہی یہ بھی بات ہوتی ہے کہ ابھی چند ہی بدیاں اس میں پائی جاتی ہیں بہت سی بدیوں کے ارتکاب سے یہ ڈرتا ہے اور اس کا دل ان پر جرأت نہیں کرتا اور گو بعض بدیاں یہ لوگوں کے سامنے کرتا ہے مگر پھر بھی اپنے دل میں حجاب محسوس کرتا ہے اور اپنی غلطیوں کے یاد دلانے پر ان کا اعتراف کر لیتا ہے۔جب اس حالت پر خوش ہو جاتا ہے اور اس کی اصلاح کی فکر نہیں کرتا تو پھر یہ تیسرے درجہ پر جا پہنچتا ہے جسے بغی کہتے ہیں یعنی لوگوں کو نقصان پہنچانا اور قوانین اخلاق کا کھلا کھلا مقابلہ۔بغی کے معنی بغاوت کے ہیں ا ور اس درجہ سے یہی مراد ہے کہ اس موقع پر پہنچ کر انسان گویا قوانین اخلاق سے بغاوت کرنے لگتاہے اور ان کی اطاعت کے جوئے کو بالکل گردن پر سے اتار کر پھینک دیتا ہے اور اپنی حالت پر فخر کرنے لگتا ہے اور اس میں اس کو لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور اس کے دل پر ملامت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ان مدارج کے بیان کرنے سے اسلام نے طالبان اصلاح کے لئے کس قدر سہولت بہم پہنچا دی ہے ہر ایک شخص آسانی سے ان کے ذریعہ اپنی اخلاقی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے نیک حالت کا بھی اور بد حالت کا بھی اور پھر اس کی اصلاح کی فکر کر سکتا ہے یا ترقی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔اور ہر حالت کا آدمی اپنے سامنے ایک مقصد پاتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا اس پر گراں نہیں گزرتا اور وہ اس سے مایوس نہیں ہوتا مثلاً اگر کسی شخص کو جو گناہ میں اس قدر بڑھا ہوا ہو کہ اخلاق کے قوانین کا احساس بھی اس کے دل میں نہ رہا ہو۔اگر یہ کہا جائے کہ تُو ایسا نیک