انوارالعلوم (جلد 8) — Page 211
۲۱۱ سے یہ ہے کہ جب ہندوستان میں طاعون پڑی اور اس کا سخت زور ہوا تو جس طرح طاعون کے نمودار ہونے سے پہلے آپ نے خبر دی تھی کہ اس ملک میں شدید طاعون (وباء) پڑے گی اسی طرح آپ نے اپنا ایک کشف یہ بھی لکھا کہ میں نے دیکھا کہ طاعون ایک مہیب جانور کی شکل میں جس کا منہ ہاتھی سے ملتا ہے چاروں طرف حملہ کرتی پھرتی ہے اور جب وہ ایک حملہ کر چکتی ہے تو میرے سامنے آ کر بیٹھ جاتی ہے اور اس طرح بیٹھ جاتی ہے جس طرح کوئی غلام مؤدب ہو کر بیٹھتا ہے اور اپنی فرمانبرداری کا اقرا رکرتا ہے۔پھر آپ کو الہام ہوا کہ "آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے" یعنی طاعون نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے غلاموں یعنی جو ہمارے ہی ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی کو ہمارے تابع کر دیتے ہیں ان کی بھی غلام ہے وہ ان کو کچھ نہیں کہے گی اور وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔پھر الہام ہوا کہ انی احافظ کل من فی الدار میں تیرے گھر میں جس قدر لوگ ہیں ان کو طاعون سے محفوظ رکھوں گا۔آپ نے ان الہامات کو اسی وقت اخباروں او رکتابوں کے ذریعہ سے شائع کرا دیا ا وراپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو حق پر تو اپنے متعلق ایسی ہی خبر شائع کر کے دیکھیں کہ ان کے گھر یا ان کی ذات طاعون سے محفوظ رہے گی مگر کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔تمام لوگ جو دنیا کے حالات سے مطلع رہنے کی کوشش کرتے ہیں جانتے ہوں گے کہ ہندوستان میں اٹھائیس سال سے سخت طاعون پھوٹا ہوا ہے اور 1901ءمیں تو جبکہ یہ الہامات حضرت مسیح موعو دکو ہوئے تھے اس کا زور نہایت ہی سخت تھا۔اس وقت تک ستّر اسّی لاکھ آدمی طاعون سے مر چکا ہے اور ایک ایک سال میں تین تین لاکھ آدمی مرتا رہا ہے خصوصاً اس کا حملہ پنجاب پر سب سے زیادہ سخت پڑا ہے۔اور تین چوتھائی بلکہ اس سے بھی زیادہ موتیں صرف پنجاب میں واقع ہوئی ہیں۔ایسی سخت وباء کے ایام میں اور ایسے مبتلاء علاقہ کے رہنے والے شخص کا اس قسم کا دعویٰ کیسا نازک ہے اور خصوصاً جبکہ ایک شخص کے متعلق نہیں بلکہ ایک گھر کے متعلق ہو جس میں ستّر یا سو آدمی رہتا ہو پھر ایک سال کے متعلق نہیں بلکہ ایک لمبے عرصہ تک کے لئے ہو۔کونسا انسان ہے جو اس قسم کی بات کا ذمہ لے سکے؟ اور کونسی انسانی طاقت ہے جو پھر اس ذمہ داری کو پور اکر سکے۔پھر یہ بات بھی دیکھنے والی ہے کہ قادیان ایک چھوٹی سی بستی ہے اور اس وجہ سے گورنمنٹ