انوارالعلوم (جلد 8) — Page 210
۲۱۰ اللہ تعالیٰ کی مشہور صفات میں سےا یک صفت مالکیت کی بھی ہے تمام مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ وہ ذرہ ذرہ کا مالک ہے مگر یہ کہ وہ کس طرح مالک ہےا س کا ثبوت ملنے کے بغیر ہمارے لئے بالکل ناممکن ہے کہ ہم اس کی مالکیت پر یقین کریں کیونکہ ہم ظاہر میں تو دیکھتے ہیں کہ باقی سب مالکوں کے آثار مالکیت نظر آتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مالکیت کے کوئی آثار دنیا میں نظر نہیں آتے۔بے شک یہ کہا جا سکتا ہے اور واقع بھی یہی ہے کہ خد اتعالیٰ نے ایک قانون بنایا ہے اس کے ماتحت کارخانۂ عالم چل رہا ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی آدمی دنیا میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کا مقرب ہو اس کے ہاتھ پر اس کی صفت مالکیت کا ظہور ہونا چاہئے تا اس کے مقرب ہونے کی دلیل پیدا ہو اور اس پر یقین آئے کہ فی الواقع خدا دنیا کا مالک ہے۔ورنہ موجودہ صورت میں تو اگر ایک عام آدمی اٹھ کر کہہ دے کہ وہی سب دنیا کا مالک ہے اور جب اسے کہا جائے کہ پھر تجھ پر قوانین نیچر کیوں حکومت کرتے ہیں؟ تو وہ کہہ دے کہ یہ میرا ازلی قانون ہے کہ ایسا ہی ہو تو ایسے شخص کا کوئی جواب خدا پرستوں کےپاس نہیں رہتا۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لوگ ایسے دعوے کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کہہ دیتے ہیں اور ان کو اس پر اس وجہ سے جرأت ہوتی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مالک ہونے کا بھی کوئی زندہ ثبوت دنیا میں موجود نہیں اس لئے ہمارے دعویٰ کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔جو اعتراض وہ ہماری خدائی پر کریں گے وہی دہرا کر ہم ان کے خدا پر کر دیں گے لیکن اگر فی الواقع خدا کی مالکیت کا کوئی ثبوت ہو تو ایسے لوگوں کو ہرگز جرأت نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کا تمسخر کریں اور دنیا کو اس طرح دھوکا دیں۔کیونکہ اس صورت میں وہ بندے جو خدا کے مقرب ہو کر اور اس کے فضل کی چادر اوڑھ کر آتے ہیں ان کو ان کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی مالکیت ظاہر ہو رہی ہے تم اگر خدا ہو تو ان سے بڑھ کر مالکیت کا ثبوت دو کیونکہ یہ نائب ہیں او رتم اصل ہونے کے مدعی ہو۔یہ طریق تمام وساوس کے رد کرنے کا ایسا ہے کہ اس کا جواب ایسے لوگوں سے کچھ نہیں بن سکتا۔ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر کے اس کی صفت مالکیت کا بھی اسی طرح اظہار کیا جس طرح اور صفات کا اور آپ نہ صرف اس امر پر شاہد ہوئے کہ اسلام انسان کو خدا تعالیٰ سے ملا سکتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی خدا تعالیٰ پر کامل ایمان لانے کا آپ نے راستہ کھول دیا۔چنانچہ ایک مثال آپ کے اس قسم کے نشانات میں