انوارالعلوم (جلد 8) — Page 190
۱۹۰ ایک شدید زلزلہ آنے والا ہے جس کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ زلزلہ سے یہ مراد ہو کہ زمین ہلے گی بلکہ اس سے مراد کوئی ایسی آفت ہو سکتی ہے جس سے جانوں کا نقصان ہو گا او رمکانات گریں گے اور خون کی ندیاں بہیں گی اور لوگوں میں سخت گھبراہٹ پڑے گی۔پھر اس زلزلہ کی جو کیفیات آپ نے بتائی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس سے ایک جنگ عظیم مراد تھی کیونکہ آپ فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا ہے کہ اس زلزلہ شدید کے وقت تمام دنیا میں گھبراہٹ پڑ جائے گی۔مسافروں کے لئے وہ سخت تکلیف کا وقت ہو گا۔(یہ شرط صاف ظاہر کرتی ہے کہ جنگ مراد ہے کیونکہ زلزلہ کا اثر مسافروں پر کوئی خاص نہیں ہوتا) ندیاں خون سے سرخ ہو جائیں گی۔یہ آفت یکدم اور اچانک آئے گی لوگوں کو اس کی پہلے سے کچھ خبر نہ ہو گی اس صدمہ سے جوان بوڑھے ہو جائیں گے پہاڑ اپنی جگہوں سے اڑا دئیے جائیں گے بہت سے لوگ صدمہ سے دیوانے ہو جائیں گے سب دنیا پر اس کا اثر ہو گا۔زا ر روس کی حالت اس وقت نہایت ہی زار ہو گی تمام حکومتیں اس کے صدمہ سے کمزور ہو جائیں گی جنگی بیڑے تیار رکھے جائیں گے اور کثرت سے ادھر ادھر چکر لگائیں گے تا دشمنوں کے بیڑے ان کو ملیں اوروہ ان سے جنگ کریں زمین الٹا دی جائے گی خدا تعالیٰ اپنی فوجوں سمیت اترے گا تا ان لوگوں کو ان کے ظلموں کی سزا دے۔اس مصیبت کا اثر پرندوں پر بھی پڑے گا۔عرب بھی اس وقت اپنے قومی فوائد کو مدنظر رکھ کر جنگ کے لئے نکلیں گے۔ترک شام کے میدا ن میں شکست کھائیں گے لیکن اپنی شکست کے بعد پھر اپنی ضائع شدہ طاقت کا ایک حصہ واپس لے لیں گے یہ زلزلہ جس وقت ظاہر ہو گا اس سے کچھ عرصہ پہلے اس کے آثار ظاہر ہوں گے۔مگر اللہ تعالیٰٰ ا س کو روک کچھ سال پیچھے ڈال دے گا۔مگر یہ آفت پیشگوئی کے شیوع (اشاعت۔مرتب) کے سولہ سال کے عرصہ میں آئے گی اور پھر یہ کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے واقعہ ہونے کے بعد ہو گی۔کس زور اور کس طاقت کے ساتھ یہ امور پورے ہوئے ہیں۔وہ زلزلہ جس کی خبر دی گئی تھی۔کیسی شدت کے ساتھ آیا اور اس نے کس طرح دنیا کو ہلا دیا؟ زلزلہ سے جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں زلزلہ ہی مراد نہ تھا یہ لفظ قرآن کریم میں جنگ کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور بہائیبل میں بھی جنگ کے لئے زلزلہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔کس طرح اس کی تمام تفاصیل پوری ہوئیں؟ کس طرح اچانک یہ جنگ چھڑی؟ تمام دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔1905ء میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی پس پورے نوے سال بعد جنگ شروع ہوئی اور ہوئی بھی حضور علیہ السلام کی