انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 179

۱۷۹ نازل ہوتا ہے اور اسی طرح بندے سے خد اکا ہم کلام ہوتا ہے جس طرح کہ ایک انسان دوسرے انسان سے ہمکلام ہوتا ہے۔ایسی ہی آواز پیدا ہوتی ہے جس طرح کہ انسانوں کے کلام میں پیدا ہوا کرتی ہے اور اسی طرح انسان آواز کو سنتا ہے جس طرح کہ وہ روز مرہ کلام سنتا ہے صرف فرق یہ ہے کہ الہامی آواز نہایت شاندار ہوتی ہے اور اس کے اندر رعب ہوتا ہے اور باوجود رعب کے اس کے اندر ایسی لذت اور راحت ہوتی ہے کہ انسان پر ایک ربودگی کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ وہ گویا اوپر کی طرف کھینچا گیا ہے اور کوئی بڑی طاقت اس پر مستولی ہو گئی ہے تب کوئی لطیف کلام یا اس کے کانوں پر ڈالا جاتا ہے جسے وہ سنتا ہے یا اس کی زبان پر نازل کیا جاتا ہے جسے وہ پڑھتا ہے یا لکھا ہوا اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے وہ یاد کر لیتا ہے مگر اس تمام عرصہ میں اس پر ایک حالت ربودگی طاری رہتی ہے تاکہ اس امر کا ثبوت رہے کہ یہ سب اس کا وہم اور خیال نہیں ہے بلکہ ایک بالائی طاقت کی طرف سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔الہام کی ان اقسام کے علاوہ دو اور اقسام بھی ہیں جو بجائے الفاظ کے تصویری زبان میں نازل ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک قسم خواب کہلاتی ہے جو کامل نیند کے عرصہ میں ہوتی ہے اور اس میں کوئی امر بطور استعارہ کے کسی شکل میں دکھایا جاتا ہے جیسے مثلاً دودھ دکھایا گیا تو اس سے مراد علم ہو گا اور بھینس دکھائی گئی تو اس سے مراد وبا اور بیماری ہو گی۔دوسری قسم کشف کی ہے جو اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ انسان کامل ہوش میں بعض وفات یافتوں سے روحانی ملاقات کر لیتا ہے یا بعض امور جو کہیں اور جگہ پر ہو رہے ہیں دیکھ لیتا ہے حالانکہ وہ اپنی جگہ اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔اس قسم کے نظارہ کو اسلامی اصطلاح میں کشف کہتے ہیں یہ سب اقسام قرآن کریم سے ثابت ہیں مگر ان کا تفصیلی ذکر مضمون کو بہت لمبا کر دے گا۔غرض یہ کہ اسلام الہام کی تشریح یہ نہیں کرتا کہ یونہی دل میں ایک خیال پیدا ہو جائے۔ایسا خیال محض الہام کی نعمت سے دوری کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اگر اس کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو الہام کی حقیقت کچھ باقی ہی نہیں رہتی۔خالی خیال اور تحریک قلبی تو دنیا کے ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ الہام ہے توپھر جو خیال کسی کے دل میں پیدا ہو وہ اسے الہام قرار دے دسکتا ہے تب تو دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو الہام سے خالی ہو۔کلام الٰہی تو وہ ہونا چاہئے جو یقین اور وثوق کی راہ پیدا کرے نہ کہ وساوس اور شبہات کا دروازہ کھولے۔اور اگر الہام