انوارالعلوم (جلد 8) — Page 177
۱۷۷ ہو جاتے ہیں۔گو یہ شبہات اس درجہ کی دعا کے متعلق پیدا ہو سکتے ہیں لکن پھر بھی بحیثیت مجموعی یہ ایک حد تک یقین کا ذریعہ ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ اس درجہ کی دعا کے متعلق یہ شبہات ہو سکتے ہیں تو میرا یہ مطلب ہے کہ ایک درجہ دعا کا او رہے جو بالکل یقینی ہے مگر وہ اگلی قسم کے عرفانوں میں شامل ہے اس کا ذکر انہی کے ساتھ کروں گا۔دوسرا درجہ عرفان کا کلام الٰہی ہے: اسلام اس درجہ کے متعلق خاص زور دیتا ہے دوسرے مذاہب عام طو پر اس دروازہ کو بند سمجھتے ہیں لیکن عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ وہ خدا جو اپنے بندوں کو اپنی ہستی کا یقین دلانے کے لئے پہلے کلام کرتا تھا اب اس نے کلام کرنا بند کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات تو ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔وہ تو نقص اور زوال سے پاک ہے پھر یہ خاموشی جو سینکڑوں سال سے شروع ہو کر اب ہزاروں تک پہنچنے والی ہے کیوں ہے؟ اگر وہ کلام نہیں کرتا تو کیونکر سمجھا جائے کہ وہ سنتا ہے؟ اور پھر کیونکر سمجھا جائے کہ اس کی باقی صفات درست ہیں؟ کیا کسی کا حق نہیں کہ اس کے کلام کے بند ہو جانے پر یہ سوال کرے کہ کیوں یہ نہ سمجھا جائےے کہ اب وہ دیکھتا بھی نہیں اور اس کا علم بھی جاتا رہا ہے اور وہ حفاظت بھی اب نہیں کر سکتا بلکہ دنیا کا کارخانہ اب آپ ہی آپ چل رہا ہے؟ اگر باقی صفات اس کی اسی طرح کام کر رہی ہیں کہ جس طرح پہلے کام کرتی تھیں تو اس کے کلام کا سلسلہ کیوں بند ہو گیا ہے؟ وہ وراء الوراء ہے اور اس کی ذات کا یقین دلانے کے لئے اس کی رؤیت تو ممکن ہی نہیں ایک اس کا کلام تھا جو لوگوں کو اس کے موجود ہونے کا علم دیا کرتا تھا اب یہ راستہ بھی اگر بند ہو گیا ہے تو پھر اس پر یقین دلانے کا اور کونسا راستہ کھلا ہے؟ اے بہائیو اور بہنو! اسلام کہتا ہے کہ یہ خیال کہ خدا کے کلام کا سلسلہ بند ہو گیا ہے درست نہیں۔وہ اب بھی اسی طرح بولتا ہے جس طرح پہلے بولتا تھا وہ اب بھی اسی طرح اپنے بندوں کو یاد کرتا ہے جس طرح پہلے یاد کرتا تھابلکہ اس نے اپنی طرف ہدایت دینے کے لئے کلام کا سلسلہ بھی دعا کے سلسلہ کی طرح وسیع کیا ہوا ہے اور ایسے لوگوں کو بھی جو خدا کے دین سے دور ہو جاتے ہیں کبھی الہام ہو جاتا ہے تاکہ وہ راستبازوں کے کلام پر شک نہ کریں بلکہ ان کی صداقت پر گواہ ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ () نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (فصلت:31-32) وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ