انوارالعلوم (جلد 8) — Page 167
۱۶۷ یہ سوال جیسا کہ ظاہر ہے سب سے اہم ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو مذہب کا فائدہ اصل میں اسی سوال کے ساتھ وابستہ ہے۔جو شخص بھی صحیفۂ فطرت کی صحیح راہنمائی سے گریز نہیں کرتا اور اس کی ہدایت سے آنکھیں بند نہیں کر لیتا اپنے دل میں محسوس کرتا ہو گا کہ اگر مذہب کی کوئی غرض ہے تو یہی کہ خدا سے ملنے کا راستہ بتائے بلکہ خدا سے ملا دے۔باقی سب سوال اس سوال کے مبادی یا ضمنی سوال ہیں۔اگر کوئی مذہب خدا تعالیٰ کی صفات بھی بیان کرے، اس کی توحید پر بھی خوب زور دے، خدا سے اخلاص کا تعلق رکھنے کے لئے بھی اپنے پیروؤں کو تاکید کرے، طریق عبادت بھی ان کو بتائے لیکن وہ اس امر پر آ کر بالکل خاموش ہو جائے کہ کیا وہ خدا کو ملا بھی سکتا ہے اور اسی دنیا میں ملا سکتا ہے تو اس کی سب پہلی تقریریں محض لفّاظی اور وقت کا ضیاع اور بنی نوع انسان سے ایک ہنسی اور تمسخر ہوں گی۔اس مذہب کی مثال بالکل اس شخص کی ہو گی جو نقاروں اور بگل کےساتھ اعلان کرائے کہ ایک عظیم الشان دریافت ہوئی ہے لوگ جمع ہو جائیں تاکہ ان کو وہ بات سنائی جائے اور چاہئے کہ کوئی پیچھے نہ رہے کیونکہ وہ ایسی اہم دریافت ہے کہ دیسی دریافت کبھی نہ ہوئی تھی اور وہ ایسی دریافت ہے کہ سب انسانوں کے لئے اس کا سننا ضروری ہے اور وہ سب کے لئے مفید ہے اور اس کا فائدہ اس قدر زیادہ ہے کہ آج تک کسی چیز کا اس قدر فائدہ نہیں ہوا اور اس دریافت سے فائدہ نہ اٹھانا شقاوت اوربدبختی ہے۔جب لوگ اس شخص کے اعلان پر دور اور نزدیک سے جمع ہو جائیں اور اشتیاق کی وجہ سے اپنے کام چھوڑ چھوڑ کرچلے آویں تو سب لوگوں کے جمع ہونے پر وہ شخص تقریر کرے کہ ایک نیا ملک دریافت ہوا جس میں اس قدر وسعت ہے کہ سب لوگ وہاں جا کر آرام سے بس سکتے ہیں۔وہ دور بھی نہیں ہر ایک کے دروازے کے نزدیک ہے اس میں جگہ بہ جگہ چشمے پھوٹ رہے ہیں اور پھول اور پھل اور میوے کثرت سے ہیں اور ہر ایک چیز کی بہتات ہے حتیٰ کہ جو لوگ بھی اس میں بسیں وہ اپنے حصہ کی فراوانی کے سبب سے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کو فضول سمجھیں گے کیونکہ وہاں ہر ایک کے پاس بہت کچھ ہو گا۔اور میں کیا بتاؤں کہ وہاں کیسا آرام ہے اس کا چمکتا ہوا سورج جو اپنے نور سے سطح زمین کو منور کرتا ہے اور اس کا گھنا سایہ جو اس کی تمازت سے آرام دیتا ہے ایسے دلکش ہیں کہ اس سر زمین میں جا کر پھر کسی کو نکلنے کو دل نہیں چاہتا۔جب لوگوں کا شوق تیز ہو جائے اور ان کی امیدیں وسیع ہو جائیں