انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 161

۱۶۱ ہے جس سے شک کی حالت جاتی رہتی ہے پس نماز روحانی ترقیات کا ایک ذریعہ ہے جس طرح مادی دنیا میں مختلف کاموں کے حصول کے ذرائع مختلف ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی نماز کی تعلیم زبردست حکمتوں پر مبنی ہے او راس کے اندر اس قدر خوبیاں جمع ہیں کہ دوسرے مذاہب کی عبادات میں اس قد رخوبیاں نہیں ہیں۔وہ تمام ضروریاتِ عبادت پر مشتمل ہے اس لئے ایک ہی ذریعہ حصول تقویٰ کا ہے اور جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو ظاہری عبادت کی ضرورت نہیں ان کی غلطی ہے۔بھلا یہ کونسی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ابراہیم اپنے سارے تقویٰ کے ساتھ اور موسیٰ اپنی ساری قربانیوں کے ساتھ اور مسیح اپنی ساری فروتنی کے ساتھ اور محمد ﷺ باوجود اپنے جامع کمالات ہونے کے تو ظاہری عبادت کے محتاج رہے اور انہوں نے دل کی عبادت پر اکتفا نہ کی لیکن بعض ایسے لوگ جو رات اور دن دنیوی شغلوں میں مشغول رہتے ہیں اور خد اکی یاد کبھی ان کے دلوں میں بھول کر بھی نہیں گھستی ان کے لئے کافی ہے کہ وہ دل میں خدا تعالیٰ کو یاد کر لیا کریں۔درحقیقت یہ ایسا خیال ہے جو یا تو نفس کی سستی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور نفس انسانی اس عذر کے ذریعہ سے اندرونی ملامت سے بچنا چاہتا ہے۔یا پھر ایک بہانہ ہے جس کے ذریعہ سے بیرونی اعتراضوں کے مقابلہ میں اپنی بے دینی کو بعض لوگ چھپاتے ہیں۔دوسری قسم عبادت کی ذکر ہے یہ عبادت اسلام نے اس حکمت کے ماتحت بتائی ہے کہ نماز جو خاص شکل اور خاص شرائط کے ساتھ اد اکی جاتی ہے اسے آدمی ہر وقت نہیں پڑھ سکتا مگر جس طرح انسان کا جسم تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد پانی کا محتاج ہوتا ہے اور بغیر پانی کے اس کے اندر ایک قسم کی تھکان اور خشکی محسوس ہونے لگتی ہے اسی طرح اس کی روح بھی روحانی پانی کی محتاج ہے کیونکہ دنیوی کاموں ا ور مادی امور کے پیچھے سارا دن پڑا رہنے کے سبب سے روح اپنی غذا سے محروم ہو جاتی ہے پس اس کے لئے اسلام نے یہ بتایا ہے کہ چاہئے کہ وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰٰ کی صفات کو یاد کر کے انسان ان پر غو رکر لیا کرے تاکہ اسے کلی طور پر دنیا میں ہی انہماک نہ رہے بلکہ خدا تعالیٰ بھی اس کو یاد آتا رہے اور قلب میں اس کی محبت کی چنگاری بھی سلگتی رہے۔اس ذکر کے وقت فوائد بھی وہی ہیں جو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔تیسری قسم کی عبادت جس کا اسلام نے حکم دیا ہے وہ روزہ ہے۔روزوں کا حکم بھی قریباً سب مذہب میں مشترک ہے مگر جس صورت اور جس شکل میں اسلام نے اس کوپیش کیا ہے اور محفوظ