انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 150

۱۵۰ تفصیل کے ساتھ ہر اک صفت کا ذکر کرتا ہے اور اس کا جو اثر روزانہ زندگی کے حالات پر پڑتا ہے اسکو بیان کرتا ہے اور مختلف صفات کے آپس میں تعلقات اور اس کے اثر کی حد بندیوں کو بھی بیان فرماتا ہے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وجود بندہ کی عقل کی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا دل خدا کی محبت سے لبریز ہو کر بہہ پڑتا ہے اور اس کے ساتھ صفات الٰہیہ کے بیان کرنے میں جو دوسرے مذاہب کو اشتراک ہے وہ صرف نام کا ہے نہ حقیقت کا حالانکہ اصل چیز حقیقت ہوتی ہے نہ کہ محض نام۔" دوسرا سوال خدا سے بندے کا تعلق "ذات و صفات باری کے متعلق جو اسلام کی تعلیم ہے اس کو مختصر بیان کر دینے کے بعد اب میں مقصد اول کے دوسرے سوال کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ بندے کو خد اسے کیا تعلق ہونا چاہئے؟ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف کسی چیز کو مان لینا اور بات ہے تمام تعلیم یافتہ لوگ نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے وجود پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان سے تعلق سوائے ان چند لوگوں کے جو ان علاقوں کی مزید تحقیقات میں مشغول ہیں کسی کو نہیں ہے ان کے ذکر سے ان کے جذبات میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی لیکن ایک ایسے شخص کے ذکر سے جو ان سے کوئی حقیقی تعلق رکھتا ہے ان کے جذبات یک دم بھڑک اٹھتے ہیں۔پس یہ بھی سوال ہے کہ کوئی مذہب اپنے پیروؤں سے خدا تعالیٰ کے متعلق کس قسم کے تعلق کا مطالبہ کرتا ہے کیونکہ اسی مطالبہ کے معیار پر کسی مذہب کی سچائی یا اس کی غلطی یا اس کی قبولیت یا اس کی ناکامی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اگر وہ ایسا مطالبہ اپنے متبعین سے کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے تو ماننا پڑے گا کہ صفات الٰہیہ پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا اور اگر مطالبہ تو صحیح ہے لیکن اس کے پیرو اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتے تو ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب اپنے مقصد کے پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات پہلے بیان کر چکا ہوں اور جن پر تمام مذاہب قریباً متفق ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا اصل تعلق اللہ تعالیٰ سے ہی ہے کیونکہ ہمارے آرام اور ہماری ترقی اور ہماری کامیابی کے سب سامان اسی نے پیدا کئے ہیں۔ہماری ہستی کے وجود میں لانے کا بھی وہی