انوارالعلوم (جلد 8) — Page 144
۱۴۴ ازیں ان کی پیدائش جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے انسان کی پیدائش کے لئے پیش خیمہ تھی اور زمین کے اوپر جوّ کی صفائی میں حشرات الارض کا بھی ایک بہت بڑا حصہ ہے اور درحقیقت یہ جانور پیدائش انسانی کی پہلی کڑیاں ہیں نہ اس طرح جس طرح آج کل بعض لوگ خیال کرتے ہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ ان میں سے ہر ایک جانور زمین کے مختلف تغیرات پر دلالت کرتا ہے اور اس کی یادگار ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ () وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (الشورى:30-31)خدا تعالیٰ کے انعامات میں سے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی پیدائش بھی ہے اور وہ جب چاہے ان کو جمع کر سکتا ہے اور جو تکلیف تم کو پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ تو تمہاری بہت سی غلطیوں کے بد نتائج کو مٹاتا رہتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند، ستارے اور ان کے درمیان کی چیزیں پیدا کر کے زمین پر انسان کو حاکم بنا دیا ہے اب اگر وہ بعض سامانوں سے فائدہ نہ اٹھاویں یا بعض کو غلط استعمال کر کے نقصان اٹھاویں تو یہ ان کا اپنا قصور ہے۔اللہ تعالیٰ تو جو کچھ کرتا ہے یہ ہے کہ ان کی غلطیوں کے بد نتائج سے ان کو بچا لیتا ہے۔پس انسانی تکالیف خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ اس قانون قدرت کے غلط استعمال کے سبب سے ہیں جو انسانوں کے فائدے کے لئے بنایا گیا تھا۔بیماریاں بھی اسی قوت مؤثرہ او رمتأثرہ کا نتیجہ ہیں جو انسانوں میں پیدا کی گئی ہے انسان کی تمام ترقیات اس کی ان قوتوں سے وابستہ ہیں۔اگر اس میں قوت مؤثرہ اور متأثرہ نہ ہو تو انسان کبھی وہ نہ ہو جواب ہے وہ ایک عام قانون قدرت کے ماتحت ہر اک اردگرد کی چیز پر اثر کرتا ہے اور اس سے خود متاثر ہوتا ہے اور جب کسی وقت اس تاثیر یا تاثر میں قانون توڑ بیٹھتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے یا تکلیف اٹھاتا ہے پس بیماری کو خدا نے نہیں پیدا کیا بلکہ خدا نے اس قانون قدرت کو پیدا کیا ہے جس سے انسان کی ترقی وابستہ ہے۔اس میں کمی بیشی کرنے پر انسان خود بیماری کو پیدا کرتا ہے اور بیماری جن قوانین کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اپنی جگہ چونکہ رحمت کا نتیجہ ہیں اس لئے بیماریوں وغیرہ کی پیدائش سے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔جو حال بیماری کا حال بعینہٖ وہی حال گناہ کا ہے۔گناہ بھی بیماری کی طرح کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا فقط قانون قدرت کے خلاف یا قانون شریعت کے خلاف آگے بڑھ جانے یا پیچھے رہ جانے کا نام گناہ