انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 143

۱۴۳ صفات الٰہی کے متعلق یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ رحمان ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے تو اس نے مختلف قسم کے درندے اور کیڑے مکوڑے کیوں پیدا کئے ہیں؟ اور تکلیفات اور بیماریاں کیوں بنائی ہیں؟ اسلام نے اس سوال کو بھی حل کیا ہے او رصرف رحمان کہہ کر نہیں چھوڑ دیا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الأَنعام:2) یعنی سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے آسمان او رزمین پیدا کئے ہیں اور جس نے ہر قسم کی تاریکیوں اور نور کو پید اکیا ہے پھر بھی وہ لوگ جو حقیقت کے منکر ہیں خدا کا شریک قرار دیتے ہیں۔یعنی تمام قسم کی وہ چیزیں جو تکلیف دہ ہیں اور تاریکی کی فرزند کہلاتی ہیں جیسے سانپ، بچھو، درندے وغیرہ یا زہر وغیرہ یا بیماریاں تکلیف وغیرہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے رحم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے رحم کو ثابت کرتی ہے اور ان کی حقیقت کو مدنظر رکھ کر خدا تعالیٰ کی حمد ثابت ہوتی ہے نہ کہ اس پر الزام لگتا ہے مگر باوجود اس کے جو لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں ان چیزوں کی پیدائش کو خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور خدا کا ایک اور شریک مقرر کر دیتے ہیں کہ ایسی ضرر رساں چیزوں کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔دیکھو کس صفائی سے حقیقت کے منہ پر سے پردہ اٹھایا ہے اور کیسا لطیف جواب دیا ہے کہ جن چیزوں کو ضرر رساں کہا جاتا ہے ان کی پیدائش ضرر رساں نہیں ہے بلکہ پیدائش کی غرض تو نیک ہی ہے اور انسان کے فائدے کے لئے ہے اور اسے ان کی پیدائش پر خدا تعالیٰ کی حمد ہی کرنی چاہئے۔اس انکشاف کے ماتحت ان چیزوں پر غور کیا جائے جو ضرر رساں معلوم دیتی ہیں تو بات ہی بالکل اور نظر آتی ہے۔زہر بے شک انسان کو مارتا ہے لیکن کس قدر بیماریوں میں سنکھیا اور کُچلا استعمال کیا جاتا ہے افیون دی جاتی ہے۔کیا وہ لوگ جو سنکھیا اور کُچلے یا افیون سے مرتے ہیں زیادہ ہیں یا وہ لوگ جو ان کے ذریعہ سے بچتے ہیں؟ یقیناً ان ادویہ کے ذریعہ سے ہر سال لاکھوں آدمی مرتے مرتے بچتے ہیں۔پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کیوں پیدا کی ہیں؟ اسی طرح سانپ، بچھو وغیرہ کا حال ہے ابھی تک خواص الاشیاء کے ماہرین نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔ورنہ جب وہ توجہ کریں گے تو ان کو معلوم ہو گا کہ یہ جانور بھی طبعی طو پر نہایت مفید ہیں۔علاوہ