انوارالعلوم (جلد 8) — Page 142
۱۴۲ کیسے مختصر الفاظ میں سارے سوال کو حل کر دیا ہے۔لطیف چیز یں انسان کو نظر نہیں آتیں بجلی، ایتھر بلکہ خالص ہوا بھی انسان کو نظر نہیں آتی۔پھر وہ خدا جو سب لطیف اشیاء سے بھی لطیف تر ہے اور مخلوق نہیں بلکہ خالق ہے کسی قسم کے مادہ سے نہیں بنا خواہ وہ کتنا بھی لطیف کیوں نہ ہو کس طرح نظر آ سکتا ہے؟ مگر ایک طرف وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کا بندہ اس کی ملاقات کا شائق ہے اور اس کے دیدار کے لئے تڑپتا ہے اس لئے وہ خود بندے کے پاس آ جاتا ہے اور اس کی نظر کے سامنے اپنے آپ کو کر دیتا ہے یعنی وہ اپنی قدرتوں اور اپنی فات کی جلوہ گری کے ذریعہ سے اپنی ذات کو بندہ پر ظاہر کرتا ہے اور اس طرح بندہ عقل کی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے۔ثبوت ہستی باری تعالیٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ () الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ () الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ () ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (الملك:2-5) بابرکت ہے وہ خدا جس کے قبضہ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے وہ خدا جس نے موت اور زندگی کو اس لئے بنایا ہے تاکہ یہ دیکھے کہ تم میں سے کون شخص اچھے عمل کرتا ہے یعنی اس نے زندگی کو عمل کے لئے اور موت کو جزاء کے لئے بنایا ہے کیونکہ اس دنیا میں کامل جزاء نہیں مل سکتی تھی تا وہ لوگ جو ابھی عمل کی جد و جہد میں پڑے ہوئے ہیں جزاء و سزا کو دیکھ کر ان کے لئے ایمان بے حقیقت نہ رہ جائے اور وہ خدا غالب ہے بخشنے والا ہے۔وہی ہے کہ جس نے سات بلندیوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ایک دوسری کو مدد دے رہی ہے تو رحمان کی پیدائش میں کسی قسم کا فرق نہیں پائے گا تُو اپنی نظر پھیر کر دیکھ کیا تو کوئی کمی بھی دیکھتا ہے؟ پھر نظر کو پھرا اور پھر پھرا۔مگر ہر دفعہ تیری نظر ناکام واپس آئے گی در آنحالیکہ وہ تھکی ہوئی ہو گی یعنی تمام کائنات پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ہر ضرورت کا جواب موجود ہے۔ہر چیز جس جس قسم کی طاقتوں کو لے کر پیدا ہوئی ہے اسی قسم کے سامان اسے میسر ہیں تا ان طاقتوں کو استعمال کر سکے۔اس دنیا پر پیدا ہونے والے باریک جَرم کی ضروریات کروڑوں کروڑ میل پر چکر لگانے والے ستارے کے ذریعہ سے پوری ہو رہی ہیں۔پس یہ دائرہ ضرورت اور اس کے ایفاء کا دیکھو اور اس سے معلوم کر لو کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے جس نے ادنیٰ ادنیٰ ضروریات کا لحاظ رکھا ہے اور ہر ایک خواہش کے پورا ہونے کا اور ہر سچی جستجو کا سامان پیدا کیا ہے۔