انوارالعلوم (جلد 8) — Page 67
۶۷ چو بیس ہزار نام ہوں تو بھی ٹھیک ہیں۔حضرت مرزا صاحب اور رسول کریم کے معجزات پھر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب اپنے معجزات رسول کریم ﷺسے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ایک جگہ اپنے معجزے تین لاکھ لکھے ہیں ۲۶؎ اور رسول کریم ﷺکے تین ہزار۔۲۷؎ ٍاس کے متعلق اول تو میں یہ کہوں گا کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے معجزوں کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریم ﷺکا استثناء کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔’’اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات د کھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالی کے فضل اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میراد عو یٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺکے باقی تمام انبیاء عليهم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے"۔۲۸؎؎ دوسرے رسول کریم ﷺ کے جو تین ہزار معجزے بیان کئے ہیں یہ معجزات کی قسمیں ہیں اور اپنے جو تین لاکھ معجزے بتاتے ہیں یہ اپنی ذات میں الگ الگ معجزے ہیں۔پس اگر حضرت مرزا صاحب نے اپنے 3لاکھ معجزے لکھے ہیں تو رسول کریم ﷺکے کئی کروڑ ہوئے اور آج تک ظاہر ہو رہے ہیں۔پھر حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ جو میرا معجزہ ہے وہ بھی دراصل رسول کریم ﷺکا معجزہ ہے اس طرح بھی رسول کریم ﷺکے مجھے 3 لاکھ اور تین ہزار ہو گئے اور یہ تو ہمارے مخالف بھی مانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی امت کے معجزے آپ ہی کے معجزے ہیں۔پھر حضرت مرزا صاحب جب کہ رسول کریم ﷺ کی امت میں سے ہیں تو آپ کے مجھے رسول کریم ﷺ کے معجزوں سے کس طرح زیادہ ہو گئے۔خدا کے جھوٹ بولنے کا عقیده پھرا یک یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے کہا ہے خدا جھوٹ بولتا ہے اور یہ کہنے والا مرتضیٰ حسن دیوبندی