انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 54

۵۴ جھوٹے ہیں مگر یہ معنے نہیں ہوسکتے۔میں پوچھتا ہوں کیا ان نبیوں نے کوئی نشان دکھائے تھے یا نہیں؟ اگر دکھائے تھے تو پھر یہی معنے ہونگے کہ انکے منکر کہتے تھے جو نشان تو پیش کرتا ہے وہ جھوٹے اور غلط ہیں ان کے علاوہ اور دکھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تب قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ جس قوم میں یقین ہو اس کے لئےتوبہت نشان بیان کئے گئے ہیں لیکن جو یہی کہتی رہے کہ کچھ نہیں ملا حالا نکہ اسے نشان دیئے جائیں اورنٹوں کی طرح یہی کہنا جانتی ہو کہ میں نہ مانوں۔میں نہ مانوں اس کے لئے کہاں سے نشان آئے۔پس اس زمانہ میں بھی جن لوگوں نے مولویت اور مشیخت کو چھوڑ کر نٹوں اور بھانڈوں کا کام اپنے ذمہ لے لیا ہے اس قوم کے لئے کوئی نشان نہیں ہے۔مثل مشہور ہے سوتے کو سب جگا سکتے ہیں جاگتے کو کوئی نہیں جگاسکتا۔سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان چونکہ یہ لوگ دل سے ٹھان لیتے ہیں کہ نبیوں کا مقابلہ کرنا ہے اس لئے انکار پر کمر باندھ لیتے ہیں اور ہر بات کا انکار کرتے جاتے ہیں ورنہ دیکھوسچے اور جھوٹے نبی کی پہچان نہایت آسان ہے کیونکہ قرآن کریم نے یہ بتادیا ہے کہ نبی پہلے نبیوں کے مثیل ہوتے ہیں اور کافر پہلے کافروں کے۔اس معیار کے مطابق حضرت صاحب کے زمانہ کے تعلق دیکھ لو کس کی جماعت کس سے ملتی ہے حضرت صاحب کی عادات اور طریق نبیوں سے ملتا ہے یا جھوٹوں سے اور آپ کو نہ ماننے والوں کی عادات اور طریق پہلے نبیوں کے ماننے والوں سے ملتے ہیں یا کافروں سے۔جس رنگ میں یا جس طریقے یہ مولوی حضرت صاحب سے استہزاء کرتے رہے اور جن باتوں پر کرتے ہیں قرآن اور حدیث میں کیا یہ طریق نبیوں کا اور ان کے ماننے والوں کا ہے ؟کہ کوئی یہ تو ثابت کرے کہ نبی کریم ﷺ لو گوں سے استہزاء کرتے تھے یا کوئی یہ تو ثابت کرے کہ حضرت موسی ٰؑیا حضرت عیسیٰؑ یا حضرت نوحؑ استہزاء کرتے تھے۔پھر کوئی یہ ثابت کرے کہ جس طرح یہ لوگ تمسخر اور استہزاء کرتے رہے ہیں حضرت مسیح موعود نے بھی ایساکیا۔ہرگز نہیں۔اگر ہنسی اور ٹھٹھا کرنے والا کوئی گروہ ہو گا تو نبیوں کا دشمن ہی ہو گانبی ہمیشہ سنجیدگی اور متانت سے لوگوں کو اپنی طرف بلائے گا۔نبی کے مانے اور نہ مانے والوں کے طریق عمل میں فرق نبیوں کے دشمن استہزاء سے کام لیتے ہیں اور نبی اور اس کے ماننے والے سنجیدگی سے کام لیتے ہیں کیونکہ خدا ان کے متعلق کہتا ہے۔الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبھم لو کہ خدا کے ذکر پر ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں