انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 45

۴۵ کہ پہلے بھی رسول آتے رہے ہیں۔اب بھی آیا ہے اے لوگو تم ہلاک ہو جاؤ گے اگر تم اس نبی کو نہ مانو گے۔تمہارے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے گا جو پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا کہ تباہ ہو جاؤ گے۔پھر اس کے بعد کی آیت یہ ہے قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ کیا صحابہ کو رسول کریمﷺ کہہ رہے تھے کہ تم اپنے شرک میں مبتلا ر ہو میں اپنے عمل کرتا ہوں؟ ہرگز نہیں، کہ کفار کے متعلق ہے مگر ان آیتوں کو مسلمانوں پر لگایا جارہاہے۔پھر یہ آیت پیش کی ہے۔ان تتولوایستبدل قوما غيركم لا يكونواامثالکم اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام کو تباہ کر کے ایسی قوم خد الاۓ گا جو مسلمانوں سے اچھی ہوگی۔حالانکہ یہاں تو یہ بتایا ہے کہ اے مسلمانوں اگر تم میں سے کوئی پھر جائے تو اللہ ان کی بجائے اور جماعت لائے گا جو مسلمانوں سے اچھی نہیں ہوگی بلکہ مرتد ہونے والوں سے اچھی ہوگی۔اب دیکھو یہ تنخواہ لے کر کیسی غداری سے بہائی مذہب کی تائید کی گئی ہے۔پہلے بھی ایک مضمون فاروق میں چھیا ہے۔اس میں بھی یہی غداری کی ہے اور الفضل میں بھی اس نے چندون کام کیا ہے۔اُس وقت کے مضامین کے متعلق بھی اس نے کہا ہے کہ ان میں پہلے بہاء اللہ مد نظر تھا، پھر مرزا صاحب۔مگر یہ دونوں باتیں کسی طرح جمع نہیں ہوسکتیں۔فتنہ بہائی کے رونما ہونے کی وجہ میں سمجھتا ہوں۔اس فتنہ کے پیدا ہونے کی غرض یہ ہے کہ خدا تعالی ہمیں اس مذہب کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے، آج تک جو قوم ہمارے مقابلہ میں آئی اس کو خدا نے تباہ کیا۔اب اس کو خدا نے لا کر کھڑا کیا ہے اب بھی ویسی ہی مثال ہوگی کہ ہم کونے کا پتھر ہیں جو اِس پر گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور جس پر یہ گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ہم اللہ کے وعدوں اور نصرتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ قوم احمدیہ جماعت کے ذریعہ تھوڑے عرصہ میں مٹائی جائے گی اور اس کا سارا گند ظاہر ہو جائے گا۔(الفضل ۱۱۔اپریل ۱۹۲۴ء) ۱ ابن ماجه کتاب الفتن باب شدة الزمان