انوارالعلوم (جلد 8) — Page 43
۴۳ موعود ؑ فوت ہوئے تو انہوں نے آپ کا مصنوعی جنازہ بنایا اور اس طرح ہمارے کالجوں کو چَھلنی کیا۔مگر بہاء اللہ کے جنازہ میں کئی مسلمان کہلانے والے شریک ہو گئے۔حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ قرار دیا ہے۔مگر ہم ان کی تقلید نہیں کر سکتے ان کی مخالفت ہم سے اس لئے نہیں کہ ہم یہ مانتے ہیں۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی غلامی میں نبی آیا بلکہ ذاتی وجوہ کے وجہ سے مخالفت کرتے ہیں۔اگر ایسانہ ہوتا تو بہائیوں کی ہم سے زیادہ مخالفت کرتے مگران سے تعلقات رکھتے ہیں۔حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ہمارے تعلق خدا کے لئے ہیں! مگر ہمارے تعلق چونکہ خدا کے لئے ہیں اور جو خدا اور اس کے رسول کو چھوڑتا ہے۔اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اس لئے میں نے اعلان کیا ہے کہ چونکہ یہ لوگ احمدی نہیں ہے اس لئے جماعت سے خارج کئے جاتے ہیں۔اور چونکہ انہوں نے ہم سے غداری اور فریب کیا ہے اس لئے جماعت ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے۔سوائے انسانی ضروریات کے کہ جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہیں۔مثلاً سودا دینا یا کنویں سے پانی لینے دینا۔پس ان حقوق کو چھوڑ کر جوتمدنی حقوق ہیں ان کے متعلق میں اعلان کرتا ہوں کہ ان سے کوئی سلوک جائز نہیں۔مگر یہ انہی کے متعلق ہے بہائیوں کے لئے نہیں۔ان کو تو ہم چاہتے ہیں کہ تبلیغ کریں۔مگر ان لوگوں نے جو غداری کی ہے اس کی یہ سزا ہے۔اور یہ ویساہی سلوک ہے جیسا کہ رسول کریم ؐنے تبو ک کی جنگ سے پیچھے رہنے والوں سے کیا تھا کہ ان سے بات تک نہ کریں۔اُس سے اِن کا جرم بڑا ہے۔وہ غلطی سے پیچھے رہے تھے مگر اِنہوں نے غداری کی ہے۔غداری کی تازہ مثال ان کی غداری کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ اخبار فاروق جو عریاں طور پراحمدیت کی تبلیغ کرنے والا اخبار ہے۔اور جو غیرت میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ بعض اوقات ہم کو اسے روکنا پڑتا ہے۔اس میں تنخواہ دار ملازم محفوظ الحق نے ایک مضمون لکھا ہے۔جس میں بہائی مذہب کی تبلیغ کی ہے۔مگر یہ ظاہر نہیں کیا۔اس مضمون کو پڑھ کر ہر احمدی یہی سمجھے گا کہ اس سے مسیح موعودؑ مراد ہیں۔مگر دراصل اس سے بہاء اللہ مرادلیا گیا ہے۔چنانچہ لکھاہے۔"اے امت ِمرحومہ ! وہ دیکھ اس تِیره و تار یک رات میں رحمت کا فرشتہ فضل کا چراغ لئے ہوئے دور سے چلا آرہا ہے۔اے امت ِمسلمہ ! آنکھیں کھول اور دیکھ کہ عنایتِ الہیٰ کے بلند