انوارالعلوم (جلد 8) — Page 630
۶۳۰ نے، جن غلط عقائد نے اس کے قتل کی تحریک کی اگر ان خیالات، اس تربیت اور ان عقائد کو مٹانا ہمارا فرض ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس واقعہ کو ہر وقت یاد رکھیں۔اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے اندر جوش پیدا کریں اور پھراس جوش کو دبائیں نہ کہ آنسوؤں کے ذریعہ نکل جانے دیں۔اس واقعہ کے متعلق ہماری مثال اس ہنڈیا کی سی ہو جس کے نیچے آگ جل رہی ہو۔اوپر سے ڈھکنا بند ہو اور سارا جو ش اس کے اندر محفوظ ہو نہ یہ کہ ڈھکنا اٹھا دیا جائے اور جوش نکل جائے۔پس چونکہ نعمت اللہ خاں صاحب شہید کی شہادت دین کی خدمت کے لئے ہوتی ہے اس لئے باوجود طبائع میں جوش اور طبیعت کے رقّت کی طرف فطر تاً مائل ہو جانے کے جہاں ایسا موقع ہو، وہاں اس جوش اور رقّت کو دبانا چاہئے۔ورنہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم اس جوش کو مٹانا چاہتے ہیں جو اس واقعہ نے پیدا کیا ہے۔دیکھو دوران لڑائی میں کوئی شخص نہیں روتا - خواہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہو۔یا اس کا بھائی ریز ہ ریزہ ہو رہا ہو۔یا اس کے باپ کی گردن دشمن اتار رہا ہو - ہاں لڑائی کے بعد اس کے آنسو نکلیں گے کیونکہ آنسو اس بات کی علامت ہیں کہ کام ہو چکا، اب آرام کا وقت ہے۔پس ہمیں اپنے آنسوؤں کو اس وقت تک روکنا چاہئے جب تک ہم اس واقعہ کے حقیقی انتقام سے فارغ نہ ہولیں جس کا لینا ہر ایک مومن کا فرض ہے۔دیکھو خدا تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ولاتحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء ام ۸۱؎ شہید مرتا نہیں۔جہاں خدا تعالی کے اس کلام میں ایک نہایت لطیف امر کی طرف اشارہ ہے وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جن کے کام کی شراکت کرتے ہوئے شہید جان دیتا ہے وہ چونکہ اس کے کام کو جاری رکھتے ہیں اس لئے وہ زندہ ہوتا ہے۔وہ آنسوؤں سے اس کی یاد بھلانا اور اس کے کام کے نقش کو مٹانا نہیں چاہتے۔اس آگ کو جو اس کی شہادت نے پیدا کی، اس جلن کو جو اس کی جدائی نے پیدا کی اوراس سوزش کو جو اس کے فراق نے پیدا کی مٹانا نہیں چاہتے کیونکہ جہاں وہ آگ، وہ جلن اور وہ سوزش تکلیف دہ ہے وہاں وہ ہمتوں کو بلند کرنے والی ، حوصلوں کو بڑھانے والی اور کام میں مدد دینے والی ہے۔وہ اس کی شہادت کے ساتھ زندگی میں ہی خود شہادت قبول کرتے ہیں۔وہ اپنے نفس کے جذبات کو مارتے اور آنسو بہا کر اپنے نفس کو آرام نہیں دینا چاہتے تب ان میں وہ جوش ،وہ ار ادہ او ر وہ قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کے ساتھ تمام بڑے بڑے کام دنیا میں کئے جاتے ہیں۔ان کی مثال انجن کی سی ہوتی ہے جس میں سٹیم