انوارالعلوم (جلد 8) — Page 574
۵۷۴ سب ہم کر چکے تھے ہمیں ان سے مدد کی کوئی ضرورت نہ پیش آئی۔جب ہم سیر کو جارہے تھے کہ ان کی عدالت بھی راستے میں آگئی۔میں نے مولوی رحیم بخش صاحب سے کہا کہ گو ضرورت کوئی نہیں مگر اخلاق چاہتے ہیں کہ آپ ان سے مل آئیں تاکہ ان کو اگر اطلاع ملی ہے تو یہ شکایت نہ ہو کہ مجھ سے ملے نہیں۔مولوی صاحب ان سے ملے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ کل اتوار تھا۔اور اتوار کو تار وغیرہ سب بند ہوتے ہیں اس وجہ سے گورنر صاحب اطلاع نہ دے سکے ہوں گے۔اس کے بعد پوچھا کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ جو میرے متعلق کام ہو بتایا جائے۔مولوی صاحب نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انتظام سب ہوچکا ہے۔پھر نائب گورنر صاحب نے ان سے کچھ ناشتہ کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے معذرت کی اور چلے آئے۔یہ حقیقت اس واقعہ کی ہے۔اس کے بعد واپسی پر جب شیخ یعقوب علی صاحب اور چوہدری فتح محمد صاحب پیچھے رہ گئے تو انہی نائب گورنر صاحب نے ان کے لئے خاص انتظام کیا ،جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت تھی وہ بھی دیا اور فون کر کے مجھے ایک درمیانی سٹیشن کے افسر کی معرفت ان کے متعلق پوری اطلاع دی۔جن مرزابدیع صاحب کی نسبت یہ واقعہ منسوب کیا جاتا ہے اگر اس کا اصلی نام بہائی شائع کردیں تو دنیا کو خود ان کی بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔میری طبیعت نہایت کمزور ہوگئی ہے۔کہیں کمزور ہوگئی ہیں اور سینے میں درد ہے۔بھوک بالکل بند ہوگئی ہے۔خاکسار مرزا محموداحمد (الفضل یکم نومبر ۱۹۲۴ء)