انوارالعلوم (جلد 8) — Page 557
۵۵۷ گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔جو ساتھی باقی رہ گئے تھے وہ گھبرا گئے اور اُتر کر آپ کے گھوڑے کی باگیں پکڑلیں اور کہا۔کہ حضور! اس وقت دشمن فاتحانہ بڑھا چلا آرہا ہے اسلامی لشکر بھاگ چکا ہے-آپ کی جان پر اسلام کا مدار ہے پیچھے ہٹئے تاکہ اسلامی لشکر کو جمع ہونے کا موقع ملے- آپ نے فرمایا کہ میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور پھر بلند آواز سے کہا۔میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں، کون ہے جو مجھے نقصان پہنچا سکے؟ یہ کہہ کر دشمن کے لشکر کی طرف ان سولہ ۱۶ آدمیوں سمیت بڑھنا شروع کیا جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے مگر دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا سکا- پھر آپ نے ایک شخص کو جو بلند آواز والا تھا کہا کہ بلند آواز سے کہو۔کہ اے اہل مدینہ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے- ایک صحابی کہتا ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ اس وقت سخت ڈرے ہوئے تھے اور بھاگے جاتے تھے- ہم ان کو واپس موڑتے تھے اور وہ مڑتے نہ تھے- جس وقت یہ آواز آئی اس وقت یکدم ہماری حالت ایسی ہوگئی کہ گویا ہم مُردہ ہیں اور خدا کی آواز ہمیں بلاتی ہے- وہ کہتا ہے کہ اس آواز کے آتے ہی مَیں بے تاب ہوگیا۔مَیں نے اپنے اونٹ کو واپس لے جانا چاہا مگر وہ باگ کے کھینچنے سے دُہرا ہوجاتا تھا مگر مڑتا نہ تھا میرے کان میں یہ آواز گونج رہی تھی کہ خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے- جب میں نے دیکھا کہ اونٹ مجھے دُور ہی دُور لئے جاتا ہے تو میں نے تلوار نکال کر اس کی گردن کاٹ دی ۵۷؎ اور پیدل دیوانہ وار اس آواز کی طرف بھاگ پڑا اور بے اختیار کہتا جاتا تھا کہ حاضرہوں حاضر ہوں- وہ کہتا ہے یہی حال سب لشکر کاتھا۔جو سواری کو موڑ سکا وہ اس کو موڑ کر آپ کے پاس آگیا اور جو سواری کو نہ موڑ سکا وہ سواری سے کود کر پیدل دوڑ پڑا۔جو یہ بھی نہ کرسکا اس نے سواری کو قتل کردیا اور آپ کی طرف دوڑ پڑا۔اور چند ہی منٹ میں سب لوگ اس طرح گرد جمع ہوگئے جس طرح کہ کہتے ہیں کہ مُردے اسرافیل کے صُور پر قبروں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔جنگ کے متعلق حضورﷺ کی ہدایات آپ لڑائی میں ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ مسلمان کبھی پہلے خود حملہ نہ کرے ہمیشہ دفاعی طور پر لڑے اور یہ کہ عورتوں کو نہ ماریں، بچوں کو نہ ماریں، پادریوں کو نہ ماریں، بوڑھے اور معذوروں کو نہ ماریں، جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں، درخت نہ کاٹیں، عمارتیں نہ گرائیں،قصبوں اور گاؤں کو نہ لُوٹیں اور اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو اس پر سخت ناراض ہوتے۔۵۸؎