انوارالعلوم (جلد 8) — Page 552
۵۵۲ آرام سے سوجاتے تو آپ آدھی رات کے بعد اُٹھ کررات کی تاریکی میں اﷲتعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجاتے یہاں تک کہ بعض دفعہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سُوج جاتے۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی تعلیم کا خلاصہ جو مذہبی تعلیم آپ دیتے تھے اس کا خلاصہ یہ تھا:۔( ۱)آپ اس تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے باقی جو کچھ بھی ہے خواہ فرشتے خواہ انسان سب اس کی مخلوق ہیں- یہ عقیدہ اﷲتعالیٰ کی ہتک ہے کہ وہ انسانوں کے جسم میں آجاتا ہے یا اس کی کوئی اولاد ہوتی ہے یا وہ بتوں میں داخل ہوجاتا ہے وہ ان سب باتوں سے پاک ہے- وہی زندہ کرتاہے اور وہی مارتا ہے۔جس قدر مصلح گزرے ہیں سب اس کے بندے تھے، کسی کو الوہیت کی طاقتیں حاصل نہ تھیں- سب کو اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور صرف اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں- اسی پر اپنے تمام کاموں میں بھروسہ رکھنا چاہیے۔( ۲)یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں کو ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی اور اخلاقی اور تمدنی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے- وہ ہمیشہ دنیا میں اس غرض کو جاری رکھنے کے لئے نبی بھیجتا رہاہے اور ہر قوم میں بھیجتا رہا ہے- آپ اس امر کے سخت مخالف تھے کہ نبوت کو کسی ایک قوم میں محدود رکھا جاوے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ پر جانب داری کا الزام آتا ہے جس سے وہ پاک ہے اور دنیا کی ہر قوم کے نبیوں کی تصدیق کرتے تھے۔( ۳)آپ اس امر پر زور دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ کی ضروریات کے مطابق اپنا کلام نازل کرتا رہا ہے اور آپ کا دعویٰ تھا کہ آخری زمانہ کی اصلاح کے لئے اﷲتعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور اس بنا پر آپ قرآن کریم کو سب پہلی کتابوں سے مکمل سمجھتے تھے اور اس کی تعلیم کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔( ۴)آپ کو یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی ہستی کا یقین دلانے کے لئے ہمیشہ اپنے بندوں سے کلام کرتاہے اور ان کے لئے نشان دکھاتا رہتا ہے اور آپ دعویٰ کرتے تھے کہ جو لوگ بھی آپ کی تعلیم پر عمل کریں گے وہ اپنے تجربہ سے ان باتوں کی صداقت معلوم کریں گے اور میں اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل درست ہے- میں نے خود بھی اسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی باتیں سنی ہیں جس طرح موسیٰؑ اور مسیحؑ کے زمانہ کے لوگ سنتے تھے اور خدا تعالیٰ نے کئی دفعہ مجھے ایسے نشان دکھائے ہیں جو انسانی طاقت سے بالا تھے۔