انوارالعلوم (جلد 8) — Page 20
۲۰ سوال - کیا آپ ان واقعات کو سچے سمجھتے ہیں۔جواب میں کیا کہہ سکتا ہوں۔میں ان واقعات کے وقت نہ تھا۔میرا مقصد یہ ہے کہ ان کتابوں میں جو واقعات ہیں ان کے متعلق مجموعی حیثیت میں واقعات اور بیانات کے لحاظ سے میں ان کو مفتری نہیں کہہ سکتا( اس وقت جو میرے دل کی حالت ہے وہ یہ ہے) سوال: - کیا آپ حالت معلق میں ہیں یا ان کو صادق سمجھتے ہیں۔جواب:۔میں ان کو صادق سمجھتا ہوں۔سوال:- ان کا دعویٰ کیا ہے؟ جواب: - ان کا دعویٰ موعود ہونے کا ہے۔سوال : - آپ بھی ان کو موعودہانتے ہیں؟ جواب:- اس کتاب میں جو دلائل لکھے ہیں ان سے مانتا ہوں۔ہاں مو عود مانتا ہوں۔سوال:- دعوی ٰ کیا ہے ان کا؟ جواب:- موعود کل ادیان ہونے کا ہے۔نبی کالفظ وہ اپنے لئے نہیں بولتے۔سوال: آپ ان کو نبی مانتے ہیں؟ جواب: - ان کا بیان ہے۔ہر دور میں جو شخص خدا تعالی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے اصطلاحات بھی لاتا ہے۔نبوت اور رسالت کی اصطلاحات آنحضرت ﷺکے ساتھ ختم ہوئیں۔بہاء اللہ کی اصطلاح میں لفظ اور ہے۔بہاء اللہ کی کتاب میں ان کے اپنے متعلق میں نے کوئی لفظ نبی یا رسول کا نہیں دیکھا۔ہاں ایک اور بہائی عالم کی کتاب میں بحث القاب کے ماتحت سے بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور جوکسی مامورالہیٰ کے ظہور سے شروع ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ جہاں اور امور لاتا ہے اصطلاحات بھی ساتھ لاتا ہے اس لئے بہاء اللہ کو نبی یا رسول نہیں کہتے کیونکہ ان کے دور میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔بہاء اللہ کی کتاب اقدس کے مطابق انہوں نے دعویٰ مسیح موعود ؑ ہونے کا کیا ہے جیسا کہ یہ فقرہ ان کی کتاب سے ہے۔إنه أتى من السماء كما أتی اول مرة ، میں ان کو مسیح موعود مانتا ہوں بلکہ موعود كل ادیان۔ساتھ ہی حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو راست باز اور ایک رنگ میں مسیح موعود مانتا ہوں۔بہاء اللہ نے مہدی موعود ہونے کا دعوی ٰنہیں کیا۔جتنا میں نے اس وقت تک دیکھا ہے۔اس کے لحاظ سے مجھے بہائی مذہب سے کوئی اصولی اختلاف نہیں۔اسلام اور بہائی مذہب کے اصولوں میں میرے خیال