انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 493

۴۹۳ وورو رپ رہا۔آخری دن ان کو معلوم ہوا کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں تو انہوں نے معذرت کی۔میں نے ان کو کہا آپ کو اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق تھا۔غرض میں آزادانہ اظہار رائے کو ہمیشہ عزت اور قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ہندوستان کے متعلق جس خواہش کا اظہار آپ نے کیا ہے اس کے متعلق میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص اس کا خواہشمند نہیں ہے کہ ہندوستان آزاد ہو۔خاندانی ٹریڈیشن کے لحاظ سے بھی اگر دیکھا جائے تو ہمارے خاندان نے سات سو سال تک اپنے علاقہ میں حکومت کی ہے جو میرے دادا صاحب پر آکر ختم ہو گئی اس لئے ہمارے خاندان میں حکومت کی روایتیں موجود ہیں۔مجھ کو تعجب ہوتا ہے جب لوگ ہم کو گورنمنٹ کا خوشامدی کہتے ہیں حالانکہ کوئی شخص کبھی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ہم نے گورنمنٹ سے کبھی کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی خواہش کی ہو ، گورنمنٹ کے بعض افسروں نے یہ کہا بھی ہے کہ کیوں یہ لوگ خواہش نہیں کرتے۔ہمارے خاندان میں گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں کی چھٹیاں موجود ہیں جن میں ہمارے خاندان کے امتیازات کا اعتراف ہے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ ہم نے کبھی ان چٹھیات کو ویسٹ پیپر (ردی کاغذ) سے زیادہ نہیں سمجھا اس لئے کہ کبھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی کہ ان کو پیش کرکے کوئی اجر لیں۔اب جو خدمات ہمارے سلسلہ نے کی ہیں ان کے بدلہ میں بھی کچھ نہیں چاہتے۔اور میں ہتک سمجھتاہوں کہ گورنمنٹ ہم کو کوئی خطاب دے یا کوئی او ر اجر دے۔مجھ کو ایک مرتبہ ایک بڑے آدی نے خط لکھا کہ اگر آپ کو ہزہائی نس کا خطاب دیا جائے تو آپ کا کیا خیال ہے۔میں نے اس کو لکھا کہ میں اس کو اپنی ہتک سمجھتا ہوں۔غرض ہم نے کبھی گورنمنٹ کی خوشامد نہیں کی اور میں اس سے کسی خدمت کا معاوضہ لینا خواہ وہ ہمارے بزرگوں نے کی یا ہمارے سلسلہ نے اب کی ہے ہتک سمجھتا ہوں۔میں نے گورنمنٹ کی جو تائید کی ہے وہ اس لئے کہ اسلام جو تعلیم دیتا ہے اس پر عمل کرنا میرا فرض ہے۔اور میں بحالات موجودہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جب تک ہندوستان ایک نہ ہو گا اور ہندو مسلمانوں میں حقیقی اتفاق و اتحاد نہ ہو گا ہندوستان کی ترقی نہ ہوگی۔اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس کا مخالف ہوں کہ زبان سے ہم اتحاد کا شور مچائیں اور دل سے مختلف ہوں جیسا کہ واقعات اور حالات نے ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت کو کھول دیا ہے۔یہ بات میں آج آپ کے سامنے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ میں عرصہ سے اس حقیقت کو واضح کر رہا ہوں۔میرے خیالات