انوارالعلوم (جلد 8) — Page 460
۴۶۰ دوره یو رپ عداوت کا آپس میں کیا تعلق ہے- کیا کوئی ملک ہے جو سب دنیا کی آبادی کو جمع کر سکا ہے- کیا یورپ یا اس کے مختلف بِلاد امریکہ، افریقہ اور ایشیا کی آبادی کو جگہ دے سکتے ہیں- کیا افریقہ، امریکہ یا ایشیا دوسرے براعظموں کی آبادی کو سنبھال سکتے ہیں- اگر نہیں تو جو بُعد محض ضرورت کی وجہ سے ہے اور جس کا علاج کسی کے پاس نہیں اس کے سبب سے اس قدر جھگڑا اور لڑائی کیوں ہے- میں مذہبی، تمدّنی اور علمی اختلاف کو دیکھتا ہوں تو بھی وجہ اختلاف کی نظر نہیں آتی- اگر کوئی قوم دوسری قوموں سے مذہبی، تمدنی یا علمی ترقی میں بڑھی ہوئی ہے تو اس کو دوسری قوموں کو اُبھارنے کی کوشش کرنی چاہیئے نہ کہ اس سے نفرت کرنی چاہیئے- ایک گرے ہوئے بھائی کی حالت دیکھ کر ایک شریف آدمی کے دل میں اظہار ہمدردی پیدا ہوتا ہے یا اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔دوستی تو وہی ہے جو تکلیف کے وقت میں ظاہر ہو نہ وہ جس کا اظہار آرام اور راحت کے زمانہ میں کیا جائے- پھر جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے قوموں کی ترقیات اور ان کے تنزل دَوری نہیں- آج ایک قوم ترقی کرتی ہے کل دوسری- کون سی قوم ہے جس نے شروع دنیا سے علم کی مشعل کو اونچا رکھا ہو-پھر کس قوم کا حق ہے کہ وہ دوسروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے- دنیا کی ہرایک قوم ایک دوسرے کی شاگرد ہے- باری باری سب ہی استاد اور شاگرد کی جگہیں تبدیل کرتے چلے آئے ہیں پھر یہ اختلاف اور منافرت کیوں ہے اس وجہ سے کہ لوگ اپنے آپ کو اس دنیا میں محدود سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے جہات کا اختلاف اور حالتوں کا تغیر ان کے قلوب پر برا اثر ڈالتا ہے- جس دن دنیا کا یہ نقطہ نگاہ بدلا اسی دن سے صلح اور امن کا دور دورہ شروع ہوجائے گا- ہمارا مقام بہنو اور بھائیو! آؤہم اپنی نظر کو ذرا اونچا کریں اور دیکھیں کہ ہم صرف اسی دنیا کے ساتھ جو سورج کے گرد زمین کی گردش کی وجہ سے مشرق ومغرب میں منقسم ہے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ہماری جگہ بہت وسیع ہے- ہم اس خدا سے تعلق رکھتے ہیں جو تمام عالم کا پیدا کرنے والا ہے- پس ہمارا مقام سورج سے بھی اونچا ہے اور مشرق ومغرب ہمارے غلام ہیں نہ کہ ہم مشرق ومغرب کے غلام- ہم سمجھدار ہو کر ان باتوں سے کیوں متاثر ہوں جو صرف نسبتی اور وہمی ہیں- مشرق ومغرب کا سوال لوگوں کے امن کو برباد کررہا ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ وہ مغرب کہاں ہے جو کسی دوسری جہت سے مشرق نہیں اور وہ مشرق کہاں ہے جو کسی دوسری جہت سے مغرب نہیں؟ آؤ ہم اپنے آپ کو ان وہموں سے اونچا ثابت کریں اور اس مرکز خلق کی طرف توجہ کریں کہ جو سب کو جمع کرنے والا ہے۔(الفضل ۷۔اکتوبر ۱۹۲۴ء)