انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 427

۴۲۷ دوره یو رپ ؎ جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ:۔؎ٍ کو جو کام کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے اغراض سفر جس کام کے لئے میں جارہا ہوں وہ اپنی نوعیت میں بالکل نرالا ہے۔ایسا نرالا کہ اب تک ہمارے بعض دوست بھی اس کو نہیں سمجھے۔میں نے سنا کہ ایک دوست ریل میں ایک غیر احمدی کو سمجھارہے تھے کہ ان کے ولایت جانے کی غرض تبلیغ اسلام ہے۔حالانکہ گو تبلیغ اسلام ہر اک کا فرض ہے اور میرا بھی مگر جیسا کہ میں نے بوضاحت لکھا ہے تبلیغ کے لئے باہر جانا خلیفہ کے لئے درست نہیں۔اس کا اصل کام تبلیغ کی نگرانی ہے۔اس کا مبلّغ کے طور پر باہر جانا سلسلہ کے لئے ایسی خطرناک مشکلات پیدا کر سکتا ہے جن سے باہر نکلنا مشکل ہوجائے۔پس یہ سفر تبلیغ کے لئے نہیں ہے بلکہ تبلیغ کی مشکلات کو معلوم کرنے اور ایسا مقامی علم حاصل کرنے کے لئے ہے جو آئندہ مغربی ممالک میں تبلیغ کرنے کے لئے مُمِدّ ہو۔اور ان خطرناک آفات کو معلوم کرنے اور ان کا علاج دریافت کرنے کے لئے ہے جو مغربی ممالک میں اسلام کے پھیلنے کے ساتھ میں پیدا ہونے والی ہیں۔اور جن کو اگر پہلے سے مدنظرنہ رکھا گیاتو اسلام کا مغرب میں پھیلنا ہی اسلام کی تباہی کا موجب ہو گا۔کام کی مشکلات ان مشکلات کاندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ مالک جو اسلامی کہلاتے ہیں وہ بھی یورپ کی تہذیب کے اثر کے نیچے پردہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں ،عورت اور مرد کے اکٹھے ناچ کاان میں رواج پایا جاتاہے ،سودعام ہو چکا ہے۔جب یہ اثر یورپ کے لوگوں نے صرف ملاقات سے ان مسلمان قوموں پر ڈال دیا ہے جو نسلاً بعد نسلِ مسلمان چلی آتی ہیں اور جو اس سے پہلے اسلامی احکام کی عادی ہو چکی تھیں تو کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ یہ قومیں مسلمان ہو کر ان عادات کو چھوڑ دیں گی۔لیکن اگر یہ مسلمان ہو کر ان عادات کو قائم رکھیں تو یقیناًدوسری اسلامی دنیا جو اس وقت تک اسلامی احکام پر قائم ہے ان کو مسلمان بھائی خیال کر کے اپنی پہلی حالت کو بدل دے گی۔کیونکہ یورپ کو دنیا کے خیالات پر ایسی حکومت ہے کہ وہ مسمریزم سے مشابہ معلوم ہوتی ہے۔جب یورپ مسلمان ہو اتو مسلمانوں پر اس کے خیالات کا اثر اور بھی بڑھ جائے گا اور جس بات کو یورپ معمولی کہے گا وہ بھی معمولی سمجھنے لگیں گے۔