انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 401

۴۰۱ دوره یورپ وہ ہر ایک ایسے ممکن ذریعے کو استعمال کرنے کے بغیر جس سے جنگ کی ضرورت ٹل جائے کبھی ایک بڑی جنگ میں پڑنے کے لئے اور اپنے اوپر اتنے کثیر مصارف ڈالنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اسی طرح اگر سود لینا اور دینا بند کردیا جائے تو کسی ملک کی تمام دولت صرف چند ہاتھوں میں اکٹھی نہ ہو جائے بلکہ وہ یکساں اور عام طور پر ساری قوم میں منقسم رہے جیسا کہ اسلامی ممالک میں ہوا کرتا تھا۔حرفت و تجارت کے منتظمین اور ڈائریکٹر پھر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعدادسے نفع کے حصہ دینے کی شرط پر روپے لینے کے لئے مجبور ہو جائیں اور اس طرح دوسرے لوگوں کے لئے ان کے کام میں ایک قسم کی شرکت کی صورت پیدا ہو جائے۔تعدّدازواج پھر تعدد ازدواج کے متعلق اسلامی تعلیم کے اوپر اعتراض کئے جاتے ہیں لیکن بہت سے جو اخلاقی، ملکی ،تمدنی، نسلی اور مالی سوالات اٹھتے ہیں ان کا تسلی بخش حل تعدد ازدواج ہی سے حاصل ہوتا ہے مثلاً وہ شخص کیا راہ اختیار کرے جس کی اتفاقاً ایسی عورت کے ساتھ شادی ہو جائے جو مجنون یا دائم المریض ہو گیا وہ اسے اپنے بچوں کی ماں ہونے دے اور اسی طرح تکلیف و مرض کا ایسا ترکہ پیچھے چھوڑے۔جو نسل انسانی کی بد خواہی کے مترادف ہے یا کیا وہ بے اولاد رہے اور اسی طرح اپنے ملک کو نقصان پہنچائے یا کیا وہ بد معاشوں کی زندگی اختیار کرے اور اپنے اور اپنی قوم کے اخلاق کو نقصان پہنچائے یا کیا اس کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایسے وقت میں طلاق دے دے جب اس کی تکلیف اور بے کسی اس کے ساتھ کمال مہربانی اور حفاظت کا مطالبہ کرتی ہے اوراسی طرح رحم او را خلاق کے جذبات سے بے حس ہو جائے؟ طلاق اس طرح طلاق کے مسئلہ کے متعلق اسلام کے معترضین اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ بعض حالات میں ایسا ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی کے مزاج آپس میں ایسے بکلّی متعارض ہوتے ہیں کہ ان دونوں کو مل کر رہنے کے لئے مجبور کرنا گویا آگ اور پانی کے ملاپ کی کوشش کرنا ہے جو کہ یقیناً دونوں کی تباہی کا موجب ہے۔اسلامی تعلیم پر ایسے اور تمام اس قسم کے اعتراضات لاعلمی کا یا کم فہمی کا نتیجہ ہیں کیونکہ اسلامی تعلیم کی بنیاد باقی تمام مذاہب کے مقابلہ میں بڑھ کر رحم اور حکمت پر مبنی ہے اور ہر زمانے کی ضرورتوں اور مشکلوں کا پورا اور مکمل حل پیش کرتی ہے۔