انوارالعلوم (جلد 8) — Page 394
۳۹۴ دوره یورپ اگر دوسری طرف ہم دیکھیں کہ تمام مذاہب ایسا کامل انسان پیدا کرنے سے قاصر ہیں جیسا کہ وہ گذشتہ زمانوں میں پیدا کرتے تھے اور یہ کہ اب وہ خدا اور بندے کے درمیان وہ رشتہ قائم کرنے سے عاجز ہیں جو پہلے وقتوں میں ان کے درمیان ہوتا تھا تو کیوں خدا دنیا کے سامنے وہ صحیح مذہب اس طور سے نہیں پیش کر دیتا کہ جسے اس کی قدرت و طاقت کا ثبوت شمار کیا جائے تاوه مذہب لوگوں کے دلوں میں ایسی تبدیلی پیدا کردے جس کا پیدا کر دینامذہب کا واحد مقصد ہے۔مختصر یہ کہ جس طور سے بھی ہم اس معاملہ پر نظر کریں ہمیں مجبوراً اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ دنیا کی موجودہ حالت بلند آواز سے کسی الہٰی ہدایت یافتہ معلم کو پکار رہی ہے اور کے انسانوں کی رو حیں مضطرب عاشقین کی مانند تمنّا و آرزو سے آسمان کی طرف دیکھ رہی ہیں اور وہ اپنے درد سے بھرے ہوئے دلوں اور پانی بہاتی ہوئی آنکھوں سے کمال عاجزی سے التجاکررہی ہیں کہ ترس کھا اور ہم پر اپنے فضل اور رحم کے دروازے کھولدے اور ہمیں بھی وہ کچھ دے جو ہمارے اسلاف کو دیا اور ہماری روحانی ترقی کو دور کرتے ہوئے اور ہماری آنکھوں کو نا بینائی اور دلوں کو نجاست سے صاف کرتے ہوئے اس ابدی زندگی کی طرف راہنمائی کر جو پیدائشِ انسان کی غرض و غایت ہے۔مسیح موعود نے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ مسیح موعود کسی نئے مذہب کے لانے والے نہ تھے بلکہ آپ اسلام کی خدمت کرنے ،اس کو نئی زندگی دینے، اس کی اشاعت کرنے اور بنی آدم کو اسلام کی معرفت،، خدا کی طرف لے جانے کے لئے بھیجے گئے تھے میں اب یہ بیان کروں گا کہ یہ کس طرح عمل میں لایا گیا۔سب سے پہلا سوال جس کامذ ہب کے ساتھ تعلق ہے تو حید الہیٰ ہے اگر کوئی مذہب خدا کے وجود کی کامل شناخت نہیں کروا سکتا تو وہ مذہب کہلانے کا ہی مستحق نہیں۔مسیح موعود کی بعثت کے وقت توحید الہٰی پر تیّقن دنیا سے بکلّی نابود ہو چکا تھا۔اس میں شک نہیں کہ ہر ایک مذہب وحدت الہٰی بیان کرنے کامد عی ہے لیکن اس مسئلے کا صحیح مفہوم آج سے پہلے کبھی ضبط نہیں ہوا۔لفظ تو حیدِالہیٰ یا تو گونا گوں مشرکانہ خیالات پر حاوی تھا یا زیادہ سے زیادہ ایک خدا کی ہستی پر محض عقیدۃًً استعمال کیا جاتا تھا لیکن ظاہر ہے کہ خدا نے انبیاء صرف اس واسطے نہیں مبعوث کئے تھے کہ وہ اس اصول کی اشاعت کردیں کہ خدا ایک ہے اس کے سوا دوسرا نہیں کیونکہ صرف اس