انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 288

سب باتوں کو روکتاہے۔اسی طرح اسلام علم دیا ہے کہ جو چیز کوکی خریدے اس کو بغیر وزن گئے یار کے دوسرے کے آگے فروخت نہ کرے کیونکہ اس میں جھگڑوں کا دروازہ کھلتا ہے۔کیونکہ خرید میں چونکہ دو والے پڑ جائیں گے پر ایک پینے والوں میں سے ہی کہے گا کہ میں نے تو چزا بھی دی تھی دوسرے نے خراب کردی ہوگی۔پس اسلام کہتا ہے کہ دو تاجر متواتر سے دیکھے اور وزن کے کوئی چیز فروخت نہ کریں۔اسی طرح اسلام حکم دیتا ہے کہ جھوٹے مقابلہ سے قیمت نہ بڑھائی جائے مثلا یہ نہ کیا جائے کہ ہر ایک اپنے ساتھی کو سکھا کر کھڑا کر دے اور وہ ایک چیز کے زیاد و نام دینے پر تیار ہو جائے اور اس طرح گاہ کو یہ بتایا جائے کہ اب اس چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اور لوگ اسے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے تیار ہیں اور یہ نیلام کے وقت جھوٹی پولی و لوا کر میت کو بڑھایا جائے۔اسی طرح اسلام یہ حکم دیا ہے کہ باہر سے آنے والے تاجروں کو شہر سے باہر جا کر نہ طلاجائے بلکہ پہلے ان کو منڈی میں آنے دیا جائے ان کو اصل بھاؤ معلوم ہو جائے اور نہ ان کو کوئی نقصان ہو اور نہ خرید و فروخت میں کوئی نار ہو۔اسی طرح اسلام سے حکم دیا ہے کہ غیر معین اشیاء کی خرید و فروخت نہ کی جائے بلکہ چیز کو دیکھے کر خریدا جائے خواہ خودخواه اپنے کسی ایجنٹ کی معرفت۔یہ نہ کیا جائے کہ جوئے کی طرح چیزیں خریدی جائیں۔مثلا اس طرح نہ کریں کہ فیصلہ کر لیں کہ جس تھان کو کنکری لگ جائے وہ ایک پہلے سے مقرر کی ہوئی قیمت پر خریدار کا ہو جائے گا اور نہ اسی فلم کے ذرائع کو استعمال کر کے خرید و فروخت کریں۔اس علم سے اسلام نے دو غیر طبی طریق جو لاٹری کے نام سے موسوم ہے اس کو بالکل روک دیا ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ طریق واقع میں فطرت کہ کے مخالف نہیں؟ یہ طریق یقینا ایکجوئے کی قسم ہے اور ایسا ہی براہے جیسے کہ جو ئےط کی کوئی ادنی سے ادنی قسم۔کانفرنسوں محلوں اور دعوتوں کے متعلق احکام اور ثواب برادرانہ تعلقات آپس کے برادرانہ تعلقات جو خاندانی تعلقات کہلا سکتے ہیں اور جن کی اقسام میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ان میں سے ایک تم مجالس اور دعوتوں کے آداب بھی ہیں۔برادری کے اکثر کام کا نفر نسوں، مجلسوں اور دعوتوں