انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 183

۱۸۳ شہادت کے درجہ کی قابلیت پیدا کررہے ہیں ان مقامات میں سے پہلے تین مقامات ہی دراصل وہ مقامات ہیں جن پر پہنچ کر انسان شک و شبہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ہمیں کیا فائدہ ہے اس امر پر زور دینے کا کہ خدا تعالیٰ علیم ہے جب تک کہ اس کے علم کا ہم کو یقینی ثبوت نہیں ملتا؟ جب تک ہم اپنی آنکھوں سے اس کے علم کا مشاہدہ نہ کریں۔ہم کس طرح تسلی سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ فی الواقع علیم ہے۔خدا تعالیٰ کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ کرتا ہے اگر ہم اس کا کوئی ثبوت نہیں دیکھتے کہ وہ زندہ کر سکتا ہے تو ہم کس طرح یقین سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ فی الواقع مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ وہ خالق ہے لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ ایک خاص قانون کے ماتحت سب کچھ ہو رہا ہے پھر ہم کس طرح مانیں کہ اس پیدائش میں خدا کا بھی کوئی دخل ہے او رہم کس طرح وثوق سے بلکہ میں کہتا ہوں دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ واقع میں خدا خالق ہے۔پھر ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک چیز اس کےقبضہ میں ہے لیکن ب ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں انسان اس کی ذات کا بھی انکار کرنےو الے موجود ہیں پھر جبکہ ہم اس کے تصرف کا ظاہر میں کوئی نشان نہیں دیکھتے تو ہم کس طرح علم کی بناء پر بلکہ میں کہتا ہوں کہ دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو دنیا کی چیزوں پر تصرف حاصل ہے۔یہی حال سب صفات کا ہے جب تک ہم اس امر کا یقینی ثبوت نہ رکھتے ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان صفات کا ظہور اس رنگ میں ہوتا ہے کہ ہم اس کو اتفاق کی طرف منسوب ہی نہیں کر سکتے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ صفات خدا تعالیٰ میں ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات تو نظر نہیں آتی اس کا علم اس کی صفات کے ہی ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے تو جبکہ ہمارے پاس کوئی یقینی ثبوت اس کی صفات کے ظہور کا نہ ہو ہم دیانتداری سے یہ بھی کب کہہ سکتے ہیں کہ کوئی خدا بھی موجود ہے اور جو کچھ دنیا میں ہو رہا ے یہ سب کچھ بے جان قانون قدرت کا جو کسی غیر معلوم پیچ در پیچ جوڑ کے ساتھ نہایت ہی مکمل طور پر چل رہا ہے نتیجہ نہیں ہے۔اس شبہ کا ازالہ صرف اسلام ہی کرتا ہے۔اس کی تعلیم پر چل کر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو کہ صفات الٰہیہ کے مظہر ہوتے ہیں اور جو پہلے خود اپنی ذات پر صفات الٰہیہ کا پَرتَو ڈالتے اور پھر دوسروں کو اس کا نشان دکھاتے ہیں اور ہستی باری تعالیٰ کا کامل عرفان بخشتے ہیں۔چنانچہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰٰ نے اس غرض کے لئے کہ لوگ اس کے وجود کو پہچانیں اور شک و شبہ کی زندگی