انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 163

۱۶۳ فرمائی ہیں۔پہلی حکمت یہ کہ انسان روزہ کے ذریعہ دکھوں سے بچ جاتا ہے بظاہر یہ امر قابل تعجب معلوم ہوتا ہے کہ روزے سے انسان دکھ سے بچے کیونکہ روزہ سے تو انسان اور بھی تکلیف پاتا ہے مگر جب غور سے دیکھا جائے تو روزہ درحقیقت انسان کو دو سبق دیتا ہے جس سے اس کی قومی حفاظت ہوتی ہے اول سبق تو یہ ہے کہ مالار لوگ جو سال بھر عمدہ سے عمدہ غذائیں کھاتے رہتے ہیں ان کو اپنے غریب بہائیوں کی تکلیفوں کا جو فاقوں سے دن گذارتے ہیں احساس بھی نہیں ہوتا نہ انہوں نے بھوک کی تکلیف کبھی دیکھی ہوتی ہے نہ بھوک کی تکلیف کا وہ اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن اسلام کے حکم کے ماتحت بڑے سے بڑے امراء کو روزے رکھنے پڑتے ہیں اور تب ان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ بھوک کی تکلیف کیسی ہوتی ہے اور اپنے غریب بھائیوں کی حالت کا صحیح اندازہ ہو جاتا ہے اور ان کی ہمدردی کا جوش دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ قوم کی ترقی اور حفاظت ہوتا ہے اور قوم کی حفاظت درحقیقت فرد کی حفاظت ہی ہوتی ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ لوگ سست اور غافل ہوں اور تکلیف برداشت کرنے کی ان میں عادت نہ ہو بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ ہر قسم کی مشقت برداشت کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔اور روزے ہر سال مسلمانوں کے اندر یہ مادہ پیدا کر جاتے ہیں اور جو لوگ اسلام کے اس حکم پر عمل کرنے والے ہوں وہ کبھی عیاشی اور غفلت میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہیں ہو سکتے۔دوسرا امر کہ روزوں سے انسان گناہ سے بچتا ہے اس طرح متحقق ہوتا ہے کہ گناہ درحقیقت مادی لذات کی طرف جھکنے کا نام ہے اور یہ قاعدہ دیکھا گیا ہے کہ جب انسان کسی کام کا عادی ہو جائے تو وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔مگر جب اس میں یہ طاقت ہو کہ اپنی مرضی پر اس کو چھوڑ بھی دے تو پھر وہ خواہش اس پر غلبہ نہیں مارتی۔جب کوئی شخص روزوں میں تمام ان لذتوں کو جو اس کو بعض اوقات گناہ کی طرف کھینچتی ہیں خدا کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور ایک مہینہ تک برابر اپنے نفس پر قابو پانے کی عادت ڈالتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ان لالچوں کا مقابلہ آسانی سے کر سکتا ہے جو اسے گناہ کی طرف کھینچتی ہیں۔تقویٰ کے قیام میں روزوں سے اس طرح مدد ملتی ہے کہ ان دنوں میں چونکہ رات کو کھانا کھانے کے لئے اٹھنا پڑتا ہے زیادہ عبادت اور دعاؤں کا موقع ملتا ہے اور دوسرے جب بندہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آرام کو چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کی